تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا سبق جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر (۱۸۸۹ء - ۱۹۴۵ء) ذاتی حفاظت کے لئے اپنے پاس ایک خاص پستول رکھتا تھا۔ اس پستول پر سونے کا کام تھا۔ اور اس کا دستہ ہاتھی دانت کا بنا ہوا تھا۔ یہ پستول دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی فوجیوں کو میونخ میں ہٹلر کے مکان میں ملا۔ اس وقت سے یہ پستول محفوظ رکھا ہوا تھا۔ تازہ اطلاع کے مطابق اس کو نیلام کر دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے اس کو ۱۱۴۰۰۰ ڈالر میں خرید لیا۔ یہ پستول اور بندوق کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ قیمت ہے جو کسی ایک دستی ہتھیار کو ادا کی گئی۔ (ڈیلی گراف ۲۲ نومبر، ۱۹۸) دوسری جنگِ عظیم سے پہلے ہٹلر کو سابق متحدہ جرمنی میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی حتیٰ کہ وہ ملک کا ڈکٹیٹر بن گیا۔ تاہم اس "قائدِ اعظم" نے برنی کو "قوم اصغر" بنانے کے سوا اور کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ ہٹلر نے جو حالات پیدا کئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمنی کا وسیع ملک تقسیم ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا۔ اور اس پر چار بیرونی طاقتوں (روس، برطانیہ، امریکہ، فرانس) کا غلبہ قائم ہوگیا۔ خود ہٹلر کا آخری انجام یہ ہوا کہ جس پستول کو وہ اپنی ذاتی حفاظت کے لئے ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا، دوسری جنگِ عظیم میں شکست کے بعد اس نے ۳۰ اپریل ۱۹۴۵ء کو اسی پستول سے اپنے آپ کو مار خود کشی کر لی۔ ہٹلر نے اپنی قوم کو بھی ھلاک کیا اور بالآخر خود اپنے آپ کو بھی۔ ہٹلر کا عروج کس طرح ہوا جدید اقتصادی تاریخ کے بارے میں آپ کوئی کتاب پڑھیں تو آپ کو اس میں ایک اصطلاح عظیم بحران (Great Depression) کی ملے گی۔ اس سے مراد وہ غیر معمولی کا دبازاری ہے جو یورپ اور امریکہ میں ۱۹۲۹ء میں شروع ہوئی۔ اور ۱۹۳۹ء تک جاری رہی۔ اس زمانہ میں مخصوص اسباب کے تحت صنعتی پیداوار گوداموں میں ڈھیر ہو گئی اور بازار میں ان کے خریدار بہت کم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کارخانے بند ہوگئے ۔ اقتصادی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں۔ تقریباً ۲۵ فیصد صنعتی کارکن بالکل بے روزگار ہوگئے۔ جرمنی میں بے روزگار آدمیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ۔ مغربی دنیا کی نصف تجارت برباد ہو کر رہ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader