Urdu book · تعمیر انسانیت

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بحران ابتدائی طور پر اگر چہ اقتصادی تھا ، مگر اس کے نہایت اہم سیاسی نتائج برآمد ہوئے۔ انتہا پسند عناصر زیادہ طاقت ور ہو گئے اور اعتدال پسند لوگوں کی ساکھ بہت گھٹ گئی : کسی سماج میں بظاہر سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ حکومت کا ہوتا ہے ، اس لئے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی بڑی مصیبت پڑتی ہے تو لوگ اس کو حکمرا نوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، اس کے نتیجہ میں عمومی طور پر وقت کے حکمرا نوں کے خلاف فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اس نفسیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص مصائب کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے اور اس کے خلاف پر جوش تقریریں کرے ، وہ لوگوں کو اپنا سچا ہمدرد دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص مجموعی حالات کی روشنی میں مسائل کا تجزیہ کرے وہ لوگوں کی نظر میں ’’ ظالم حکومت ‘‘ کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق لوگوں کا گمان یہ ہو جاتا ہے کہ وہ عوام کو عمل کے اصل نشانہ سے ہٹا دینا چاہتا ہے۔ زمانہ بحران ( ۲۹ - ۱۹۳۰ء) میں جرمنی کے یہی حالات تھے جس کو ہٹلر نے استعمال کیا۔ اس نے تمام مصیبتوں کا ذمہ دار حکومت وقت کو قرار دے کر اس کے خلاف آتشیں تقریریں شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں وہ جرمنی کا سب سے مقبول لیڈر بن گیا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ۱۹۲۹ء کے بعد پیدا ہونے والے اقتصادی بحران سے ہٹلر کو عوامی تائید ملی۔ اور اس کی پارٹی جرمنی کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی : دوسری مثال ایک طرف ہٹلر کی یہ تاریخ ہے۔ دوسری طرف اسی یورپ میں برطانیہ کی ایک تاریخ ہے۔ برطانیہ میں اس کے بالکل برعکس انداز میں ایک ’’ پارٹی ‘‘ بنی۔ جو عام طور پر فبین سوسائٹی کے نام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page