تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
سے جانی جاتی ہے۔ اس کا طریقِ فکر اور اس کا انداز اس سے مختلف تھا جو ہٹلر کا اور اس کی نیشنل سوشلسٹ (نازی) پارٹی کا تھا۔ فبیین سوسائٹی برطانیہ میں کبھی عوامی مقبولیت حاصل نہ کر سکی مگر اس نے برطانیہ کے لئے جو کام کیا وہ نازی پارٹی کے مقابلہ میں ہزاروں گنا زیادہ اہم تھا۔ فبیین سوسائٹی لندن میں ۱۸۸۳ میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں کو دور کرنا تھا۔ اس سوسائٹی میں ابتداً جو لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰ - ۱۸۵۶) تھا۔ برنارڈ شا اپنے اندر عوام پسند تقریر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس کی تقریروں نے اس تحریک کے گرد ایک بھیڑ جمع کر دی۔ نوجوان برنارڈ شا نے اس کے بعد عوامی مظاہرہ کا منصوبہ بنایا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں زیادہ تر درمیانی طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ جب مارچ کرتے ہوئے لندن کے ان علاقوں میں پہنچے جہاں بڑے بڑے دولت مند رہتے تھے تو ان کے کچھ افراد تشدد پر اتر آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے۔ اس پہلے تجربہ کے بعد ہی فبیین سوسائٹی کے رہنما جلوس اور مظاہرہ کے سخت مخالف ہو گئے انھوں نے کہا کہ عوام کو " پر امن مظاہرہ " کا پابند رکھنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ اس لئے ہم اپنی اصلاحی جدوجہد کو مظاہرہ کے بغیر چلائیں گے۔ اس کے بعد فبیین سوسائٹی پریس، اجتماعات، علمی ریسرچ وغیرہ جیسے غیر مظاہراتی طریقوں کی پابند رہ کر کام کرنے لگی۔ فبیین سوسائٹی نے تدریجی طریقہ کار کی ناگزیر یت (Inevitable ness of gradualism) پر زور دیا۔ اس تحریک کے لوگ سوشلزم کو مانتے تھے مگر وہ ارتقائی سوشلزم کا عقیدہ رکھتے تھے نہ کہ انقلابی سوشلزم کا : The Fabians put their faith in evolutionary socialism rather than in revolution (4/20). غیر مظاہراتی طریقہ عمل اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موجودہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کام میں اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے۔ توثیق کے بجائے استحکام پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ شہرت اور مقبولیت کے مواقع ہوتے ہوتے اپنے آپ کو گمنامی میں دفن کرنے کے لئے راضی ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ فبیین سوسائٹی کے ساتھ یہ سب کچھ پیش آیا۔ یہ ایک حقیقت ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader