تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ فبیبین سوسائٹی نے برطانیہ میں ایک زبردست تاریخ بنائی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانی عظمت کو قائم کرنے کے لئے اس کے رہنماؤں کو اپنی ذاتی عظمت سے دست بردار ہو جانا پڑا۔ اپنے معتدل طرز فکر اور اپنے غیر عوامی طریق کار کی فبیبین سوسائٹی کو یہ قیمت دینی پڑی کہ وہ کبھی برطانیہ کی مقبول عام تحریک نہ بن سکی۔ 1947ء کا زمانہ اس کا عروج کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے۔ مگر اس عروج کے زمانہ میں بھی فبیبین سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد 800 سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ہمیشہ "خواص" کی تحریک شمار کی جاتی رہی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فبیبین سوسائٹی نے اپنی خاموش فکری سرگرمیوں کے ذریعہ برطانیہ کے ذہین طبقہ پر گہرا اثر ڈالا۔ ملک کی عام آبادی میں اس کے ارکان کی تعداد اگرچہ ایک فی صد سے زیادہ نہ تھی۔ مگر اعلیٰ ترین افهران کی قابل لحاظ تعداد اس سے متاثر ہوگئی۔ چنانچہ اس کے ممبروں کی فہرست میں جارج برنارڈ شاہ، سڈنی ویب اور کلیمنٹ اٹلی جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ فبیبین سوسائٹی کے ارکان اگلے مرحلہ میں برطانیہ کی لیبر پارٹی میں شریک ہوگئے یہ لوگ لیبر پارٹی میں اس حد تک دخیل ہوئے کہ وہ اس کا دماغ بن گئے۔ چنانچہ 1925 کے انتخابات میں لیبر پارٹی برطانیہ میں برسر اقتدار آئی تو اس کے ممبران پارلیمنٹ کی نصف تعداد وہ تھی جو فبیبین سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ پارٹی کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی بھی اس کے ایک ممبر تھے۔ فبیبین سوسائٹی ملک کی مجموعی آبادی میں بمشکل ایک فی صد تھی مگر حکمراں پارٹی میں اس کی تعداد پچاس فی صد تک پہنچ گئی۔ 1935 سے پہلے برطانیہ میں سرونسٹن چرچل کی پارٹی برسر اقتدار تھی۔ اس وقت برطانیہ کے نوآبادیاتی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ بظاہر ہر برطانیہ کی طاقت ان تحریکوں کو دبانے میں ناکام ثابت ہورہی تھی۔ مگر چرچل نے برلانی مقبوضات کو آزاد کرنے کا مطالبہ بے نیا زانہ طور پر رد کر دیا۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر میں کہا تھا کہ وہ ملک معظم کے وزیر اعظم اس لئے نہیں بنے ہیں کہ سلطنت برطانیہ کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کریں: He had not become His Majesty's first minister to preside over the liquidation of His Majesty's empire. ونٹن چرچل کی پالیسی برطانیہ کو اسی قسم کے انجام کی طرف لے جانے والی تھی جہاں ہٹلر نے جرمنی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader