تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچا یا تھا۔ یعنی اپنے مقبوضہ ممالک سے پرتشدد جنگ اور بالآخر ظلم کا ٹائٹل لے کر ان کی آزادی پر راضی ہونا۔ مگر ۱۹۲۵ میں جب لبرلر پارٹی بر سر اقتدار آئی تو اس نے اپنے فیبین ممبروں کے زیر اثر پورے معاملہ پر از سر نو غور کرنا شروع کیا۔ ان کے حقیقت پسندانہ انداز فکر نے انہیں بتا یا کہ نو آبادیاتی ممالک کو موجودہ حالات میں زیادہ دیر تک اپنے قبضہ میں رکھنا ناممکن ہے۔ جدید حالات کے نتیجہ میں بہر حال ایک نہ ایک دن وہ آزاد ہو کر رہیں گے۔ لیکن اگر برطانیہ پر امن طور پر انہیں آزاد کر دے تو یہ اس کے لئے کھونے سے زیادہ پانے کے ہم معنی ثابت ہوگا۔ یہ دراصل فیبین دماغ ہی تھا جس کے تحت برطانیہ نے ۱۹۴۷ میں یہ تاریخی فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان کو اور اس کے بعد دوسرے مالک کو پر امن طور پر آزاد کر دے۔ اس حقیقت پسندانہ فیصلہ کا زبردست فائدہ برطانیہ کو ملا۔ ایک طرف اس کے عالمی اقتصادی فائدے بڑی حد تک محفوظ رہے۔ دوسری طرف برٹش کامن ویلتھ کی صورت میں اس نے مزید کم از کم نصف صدی تک اپنے عالمی سیاسی وقار کا تحفظ کر لیا۔ ہمارے لئے سبق ہندوستان کے حالات نے اگرچہ اس کی اجازت نہ دی کہ یہاں کوئی شخص "ہٹلر" بن سکے۔ مگر ایک اعتبار سے ہمارے اکثر لیڈر ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے بیشتر لیڈر خواہ وہ کمیونٹی لیڈر ہوں یا قومی لیڈر، یہی کرتے رہے ہیں کہ وہ فرشتہ یا قوم کو پیش آنے والی کسی مصیبت کو لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ بگڑے ہوئے حالات کی پوری ذمہ داری وقت کی حکومت پر ڈال کر اس کے خلاف دھواں دھار تقریریں شروع کر دیتے ہیں۔ جلسہ، جلوس، اخباری بیانات کا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے، اور ان سب کا رخ ہمیشہ حکومت وقت کی طرف ہوتا ہے۔ عوام اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر جوق در جوق ایسے لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وقت کی حکومت کا خاتمہ کر دیں۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہو جاتے ہیں۔ کسی کا یہ قول اس قسم کے تمام انقلابات پر صادق آتا ہے کہ انقلاب اس بات کی ایک کامیاب کوشش ہے کہ ایک بری حکومت کو ختم کر کے اس سے بھی زیادہ بری حکومت کو اپنے اوپر مسلط کر لیا جائے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader