لا قانونیت کا مسئلہ
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
لاقانونی کا مسئلہ مارچ ۱۹۸۸ کی ۱۲ تاریخ ہے۔ اور صبح ۸ بجے کا وقت۔ میرے دفتر (نئی دہلی) سے متصل پارک میں رنگ برنگ کے پھول نہایت حسین منظر پیش کر رہے ہیں۔ اتنے میں کالونی کی ایک خوش پوش عورت پارک میں داخل ہوتی ہے۔ وہ پھول توڑنا چاہتی ہے۔ مالی اس کو منع کرتا ہے مگر وہ باز نہیں آتی۔ وہ اپنے پسندیدہ پھولوں کو توڑ کر ہاتھ میں لے لیتی ہے۔ اور باہر سڑک پر آکر فاتحانہ انداز میں کہتی ہے : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے باپ کا پارک ہے۔ ہم پھول توڑیں گے ، دیکھیں کون ہم کو روکتا ہے پھول توڑنے سے۔ یہ چھوٹا سا واقعہ اس ہندوستان کی تصویر پیش کرتا ہے جس کو آزاد ہندوستان کہا جاتا ہے ، آزاد ہندوستان در اصل لاقانونیت کا دوسرا نام ہے۔ آج ملک کے جس شعبہ کو دیکھیے، ہر جگہ لاقانونیت ہے۔ سرکاری دفتروں سے لے کر سڑک کی ٹریفک تک تعلیمی اداروں سے لے کر سیاسی پارٹیوں تک ، ملک کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں قانون کا احترام پایا جاتا ہو۔ اپنے ذاتی مفاد کے سوا اور کوئی چیز نہیں جس کو لوگ جانتے ہوں۔ اپنی ذاتی انانا کے سوا اور کوئی چیز نہیں جس کا لحاظ کرنے کی ضرورت انھیں محسوس ہوتی ہو۔ قانون کی پابندی کرنے والے شہری نام کی کوئی چیز جدید ہندوستان میں نہیں پائی جاتی۔ (Law abiding citizen) اس تاثر کے تحت آج جب میں نے دہلی کے اخبارات پڑھے تو مجھے محسوس ہو کہ اس لاقانونیت کا ڈانڈا در اصل ڈانڈی مارچ سے ملتا ہے۔ آج (۱۲ مارچ ۱۹۸۸) کے اخبارات نے ڈانڈی مارچ کے واقعہ کی تفصیلات نمایاں طور پر شائع کی ہیں۔ ڈانڈی مارچ کیا تھا۔ وہ گویا قانون شکنی کی طرف اکابر قوم کا مارچ تھا۔ یہ قانون شکنی کو گلوریفائی کرنے کے ہم معنی تھا۔ اور جب کسی قوم میں ایک بار قانون شکنی کی روایت قائم کر دی جائے تو پھر وہ کسی حد پر نہیں رکتی۔ ڈانڈی مارچ ہندوستان کی تاریخ آزادی کا مشہور واقعہ ہے۔ یہیں سے مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی Civil disobedience کا آغاز ہوتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader