Urdu book · تعمیر انسانیت

لا قانونیت کا مسئلہ

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

پورے ملک میں برٹش راج کے خلاف عوامی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ لوگ بے خوف ہو کر انگریز حکمرانوں کو ہر جگہ چیلنج کرنے لگے۔ انگریزی قانون کو توڑنا قومی ہیرو بننے کے ہم معنی ہو گیا۔ ایک سال کے اندر ۶۰ ہزار آدمی خوشی خوشی جیل چلے گئے۔ وغیرہ۔ مہاتما گاندھی ۱۲ مارچ ۱۹۳۰ء کو سابرمتی آشرم سے پیدل روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ۷۹ آدمی تھے۔ انھوں نے ۲۴ میل کا سفر ۲۴ دن میں طے کیا اور ۵ اپریل ۱۹۳۰ء کو ساحل سمندر پر پہنچے۔ انھوں نے وہاں ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر نمک حاصل کر کے قانون شکنی کے عمل کا آغاز کیا۔ اس پورے راستہ میں گاندھی جی کو اطراف کی بستیوں سے اتنا زبردست استقبال ملا جو کسی بادشاہ کے لیے بھی قابل رشک ہو سکتا تھا۔ مہاتما گاندھی ایک ہیرو کی مانند سابرمتی سے ڈانڈی پہنچے۔ وہاں انھوں نے ۵ اپریل ۱۹۳۰ء کو اپنے قلم سے لکھا کہ میں طاقت کے خلاف حق کی اس جنگ کے لئے عالمی ہمدردی چاہتا ہوں : I want world sympathy in this battle of Right against Might. ۱۲ مارچ ۱۹۸۸ء کے دہلی کے اخبارات میں ڈانڈی مارچ کے بارے میں اس قسم کی مختلف تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔ ان کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ ۶۰ برس پہلے مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے تھے کہ ملک کا اصل مسئلہ ملک سے برٹش راج کو ختم کرنا ہے۔ مگر اس واقعہ کے ۶۰ برس بعد دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اصل مسئلہ "برٹش راج" کو ختم کرنا نہیں تھا بلکہ "نفسانی راج" کو ختم کرنا تھا۔ برٹش راج ختم ہو گیا مگر نفسانی راج مزید شدت کے ساتھ باقی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پوراملک پہلے سے بھی زیادہ بے امنی اور بدعنوانی کا نمونہ بنا ہوا ہے۔ موجودہ ہندوستان میں کسی شریف اور با اصول آدمی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اس کے لئے موجودہ ہندوستان میں زندہ رہنا ایسا ہی ہے جیسا کانٹوں کے فرش پر زندہ رہنا۔ مہاتما گاندھی کے ساتھ ڈانڈی مارچ (۱۹۳۰ء) کے قافلہ میں جو لوگ شریک تھے، ان میں سے کچھ افراد بوقت تحریر زندہ ہیں۔ ان میں سے ایک مسٹر کپل پر ساد دیو بھی ہیں جن کی عمر اب ۸۸ سال ہو چکی ہے۔ گاندھی نگر میں انھوں نے ہندوستان ٹائمس (۱۲ مارچ ۱۹۸۸ء) کے نامہ نگار مسٹر اشوک ویاس سے ماضی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page