Urdu book · تعمیر انسانیت

دین کا کائنات

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ثانی الذکر سے مراد قانون شریعت۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ دونوں ایک ہیں۔ ان میں صرف یہ فرق ہے کہ ایک مجبورانہ طور پر مطلوب ہے اور دوسرا اختیاراتہ طور پر۔ انسان کو عین وہی دین خود اپنی مرضی سے اختیار کرنا ہے جس کو بقیہ کائنات خارجی حکم کے تحت اختیار کئے ہوئے ہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح بیان کرتی ہیں (الجمعہ ۱)۔ کائنات کی یہ چیزیں زبان حال سے اس طرح تسبیح کر رہی ہیں کہ ان کا وجود مکمل طور پر خدا کی قدرت و عظمت کا عملی اظہار بن گیا ہے۔ انسان کو یہی تسبیح شعوری طور پر زبان قال سے کرنا ہے۔ یعنی اس کا سینہ خدا کی عظمتوں کے احساس سے اس طرح سرشار ہو جائے کہ وہ اسی کے ترانے گانے لگے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ درخت اور دوسری بلند چیزیں اللہ کے آگے سجدہ کرتی ہیں۔ یہ سجدہ سائے کی صورت میں ہوتا ہے (الرعد ۱۵) زمین پر کھڑی ہوئی چیزوں کے اوپر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو مخالف سمت میں ان کا سایہ نیچے زمین پر پڑ جاتا ہے۔ یہ گویا مادی چیزوں کا سجدہ ہے۔ یہی سجدہ انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ اس کے دل میں خدا کی خدائی کے اعتراف کا طوفان برپا ہو اور وہ عبودیت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اللہ کا پرستار بن جائے۔ وہ اس کے آگے بے تابانہ طور پر سجدہ میں گرپڑے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے درخت پیدا کیا جو انسان کو طرح طرح کے فائدے یک طرفہ طور پر دیتا ہے (ابراہیم ۲۴)۔ انسان کو بھی اسی طرح دوسروں کے لئے نفع بخش بننا چاہئے۔ ہر انسان کو شعوری طور پر یہ کوشش کرنا چاہئے کہ اس کی ذات سے دوسروں کو سایہ اور پھل اور خوشبو اور سرسبزی ملے۔ وہ دنیا والوں کے لئے فرحت بخش باغ بنے نہ کہ خشک صحرا۔ اور یہ سب کچھ وہ یک طرفہ طور پر خدا کے لئے کرے نہ کہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے لوہا پیدا کیا جس میں زبردست طاقت ہے (الحدید ۲۵)۔ مادی دنیا میں لوہا ایک پر اعتماد دھات کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان سے بھی یہی اعتماد والی صفت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page