Urdu book · تعمیر انسانیت

لا قانونیت کا مسئلہ

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

سیر ہو کر کھایا پیا۔ جب گاندھی جی کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ اس سفر کے دوران ہر شام کو وہ مجلس کرتے تھے۔ اس روز شام کی مجلس میں انھوں نے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ستیہ گرھیوں کو اس کوچ کے لئے منتخب کر کے ہمالیہ پہاڑ کے برابر غلطی کی ہے۔ ملک کے باشندوں کی اکثریت کو کھانے کے لئے باجرہ کی ایک روٹی اور چٹنی یا پیاز بھی نہیں ملتی۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں نے کیوں نہ یہ سوچا کہ آپ ایسا پر تکلف کھانا کھائیں۔ مہاتما گاندھی اگر آج زندہ ہوتے تو یقیناً وہ محسوس کرتے کہ صورت کی پر تکلف دعوت کو قبول کرنے سے زیادہ بڑی غلطی خود ڈانڈی مارچ کا فیصلہ تھا جو قانون شکنی یا سول نافرمانی (Civil Disobedience) کے طور پر زیر عمل لایا گیا تھا۔ جدید ہندوستان میں سب سے پہلی ہمالیائی غلطی یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف "نافرمانی" کے طریقہ پر عمل کر کے قانون شکنی کی روایت قائم کی گئی۔ کسی ملک کے اکابر جب ایک بار قانون کے احترام کی روایت کو توڑ دیں اور قانون شکنی کو مقدس قانونی عمل کی حیثیت سے رایج کریں تو اس کے بعد ملک کو لاقانونیت (Lawlessness) کی طرف جانے سے روکا نہیں جاسکتا۔ اور آزادی کے بعد کا ہندوستان، جہاں لاقانونیت ہی کا نام قانون ہے، بلاشبہہ اسی غلطی کا نتیجہ ہے جس کا آغاز ۶۰ سال پہلے تمام اکابر قوم کی متفقہ منظوری سے کیا گیا تھا۔ مہاتما گاندھی نے ۱۹۴۷ء سے پہلے برٹش راج کو ختم کرنے کے لئے تحریک چلائی تو سارا ہندوستان ان کے ساتھ ہو گیا۔ وہ ملک کے ہیرو بن گئے۔ مگر اسی مہاتما گاندھی نے ۱۹۴۷ء کے بعد نفسانی راج کو ختم کرنے کی مہم شروع کی تو انھیں آزاد ہندوستان کے عین قلب میں گولی مار کر ختم کر دیا گیا۔ ایک ایسے شخص کے منہ سے اس طرح کی باتیں نکلنی جنھوں نے آزاد ہندوستان کی تعمیر میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page