اسلام کا رول
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
دی ۔ اس تاریخی انقلاب کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کے اوپر ترقی کے وہ تمام راستے کھل گئے جو اب تک اس کے لئے بند پڑے ہوئے تھے۔ اس اسلامی انقلاب کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا تعلق انسانی زندگی کے تقریباً تمام شعبوں سے ہے۔ یہاں ہم اس کے صرف چند پہلوؤں کا نہایت مختصر ذکر کریں گے تاکہ اسلام کی اس خصوصیت کا اجمالی اندازہ ہو سکے۔ مذہبی اصلاح مذہب انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان پیدائشی طور پر ایک مذہب چاہتا ہے۔ مگر وہ اسلام سے پہلے اپنی صحیح اور فطری صورت میں انسان کے پاس موجود نہ تھا۔ اسلام نے انسان کو صحیح اور فطری مذہب عطا کیا۔ اسلام سے پہلے جو مذہبی نظام ات دنیا میں موجود تھے، ان کے مطابق انسان براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ انسان کے لئے صرف یہ ممکن تھا کہ وہ مخصوص مذہبی طبقہ (کلر جی) یا مفروضہ مقرب شخصیتوں کے واسطہ سے خدا کے ساتھ اپنا رشتہ قائم کرے۔ یہ صورت حال فطری تقاضہ کے خلاف تھی۔ کیونکہ انسان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ وہ بلا واسطہ خدا سے مل سکے۔ اسلام نے اس انسانی تقاضے کی تکمیل کی۔ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ ــــــــ اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ (البقرہ ۱۸۶) یہی معاملہ عبادات کا تھا۔ قرآن میں قدیم اہل عرب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ : ”اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ (الانفال ۳۵) اس زمانہ میں پوری مذہبی دنیا کا حال یہ تھا کہ عبادت کے ظاہری ڈھانچہ کو اس کی داخلی روح سے الگ کر دیا گیا تھا۔ مزید بگاڑ کے نتیجہ میں عبادت کا ڈھانچہ بھی اپنی اصل صورت میں باقی نہ تھا۔ اسلام نے عبادات کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader