اسلام کا رول
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ اخلاق کا تھا۔ کچھ نمائشى عادات واطوار کو اخلاق سمجھ لیا گیا تھا۔ اسلام نے اخلاقی نظام کی تکمیل کی۔ اخلاق کو اس کی حقیقی اسپرٹ کے ساتھ زندہ کیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی کی صورت میں اخلاق کا ایک زندہ عملی نمونہ قائم کیا۔ مزید یہ کہ اخلاق کو سماجی سلوک سے اوپر اٹھا کر اس کو ربانی سلوک کا درجہ عطا کیا۔ اسی طرح اجتماعی اور سیاسی نظام کی تشکیل میں اسلام کا نہایت اہم حصہ ہے۔ اسلام سے پہلے ساری دنیا میں بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ اس نظام کے تحت سیاسی اور اجتماعی معاملات زیادہ تر ایک حکمران کی مرضی کے تابع سمجھے جاتے تھے۔ اسلام نے اجتماعی اور سیاسی معاملات کو اس کے بجائے خدا کے حکم کے تابع کیا۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اجتماعی معاملات اور ریاستی نظام کا ایک صالح نمونہ قائم کر دیا جو لوگوں کے لئے عملی نمونہ کا کام دیتا ہے۔ اسلام نے ایک طرف ان امور کی اصلاح کی جو خالص مذہبی امور سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف زندگی کے بقیہ معاملات کو مذہب کے صالح اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس طرح اسلام نے انسان کی پوری زندگی کو خدا کے رنگ میں رنگ دیا۔ اب انسان کی پوری زندگی، اپنے تمام شعبوں کے ساتھ، خدا کی عبادت بن گئی۔ سیکولر علوم کی بنیاد آزادانہ ریسرچ پر قائم کرنا پیغمبر اسلام ﷺ مکہ میں پیدا ہوئے جہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ نبوت کے تیرہویں سال آپ وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے۔ مدینہ میں کثرت سے کھجور کے درخت پائے جاتے تھے۔ ایک روز جب کہ آپ شہر کے باہر چل رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اس وقت وہ کام کر رہے تھے جس کو عربی میں تابیر یا تلقح کہا جاتا ہے۔ یعنی مصنوعی زر خیزی (Pollination)۔ ان لوگوں نے آپ کے پوچھنے پر بتایا کہ ہم ایسا اور ایسا کر رہے ہیں۔ آپ نے ظن کی بنیاد پر ایک بات کہی جس کا مطلب انھوں نے یہ سمجھا کہ آپ اس عمل سے منع فرما رہے ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے تلقح (زرخیزی) کے اس عمل کو چھوڑ دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader