اسلام کا رول
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سال کھجور کی فصل کم آئی اور جو آئی وہ بھی خراب تھی۔ آپ نے دریافت کیا کہ اس سال کھجور کی فصل خراب کیوں ہوئی۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارے تجربہ کے مطابق ، اچھی فصل کا انحصار اسی عمل پر ہوتا ہے جو ہم کر رہے تھے اور آپ نے اس سے منع فرمادیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ جو تم کر رہے تھے اس کو کرو کیوں کہ تم اپنی دنیا کے معاملہ کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ انتم اعلم بأمر دنیا کم (مسلم ۱۱۸/۱۵) یہ ایک بے حد اہم رہنمائی تھی جو تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام نے جاری فرمائی۔ اس رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سائنسی ریسرچ اور فطرت کے رازوں کی دریافت کا وہ سلسلہ انسانوں کے درمیان کھلے طور پر جاری ہو گیا جو ہزاروں سال سے رکا ہوا تھا۔ قدیم زمانہ میں علمی تحقیق کی حیثیت ایک آزادانہ شعبہ کی نہ تھی۔ اس زمانہ میں علمی تحقیق کو مذہب عقائد ورسوم کے تابع بنا دیا گیا تھا۔ کوئی علمی دریافت اسی وقت صحیح سمجھی جاتی تھی جب کہ وہ مروجہ عقائد ورسوم سے مطابقت رکھتی ہو، اگر وہ اس کے مطابق نہ ہو تو بلا بحث اس کو رد کر دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک علمی تحقیق کا کام اپنے ابتدائی مرحلہ میں رکارہا۔ وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے مذکورہ انقلابی اعلان کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور آیا۔ اب نہ صرف باغبانی اور زراعت بلکہ علوم فطرت کے ہر شعبہ میں آزادانہ تحقیق ہونے لگی۔ ہر علم بے روک ٹوک آگے بڑھنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ کے مسلمانوں نے زراعت و باغبانی کے نئے نئے طریقے دریافت کئے۔ انہوں نے صنعت و تعمیر کے میدان میں زبردست ترقی کی۔ جراحی سے لے کر جنگ تک ہر شعبہ میں نئے نئے آلات اور اوزار بنائے۔ آزادانہ تحقیق کی یہ لہر بڑھتی رہی یہاں تک کہ صدیوں کے دوران وہ ساری دنیا میں پھیل گئی۔ یہی وہ تاریخی عمل ہے جو ترقی کرتے ہوئے اس نئے دور تک پہنچا ہے جس کو ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader