اسلام کا رول
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ اور مادیات کی علحدگی پیغمبر اسلام ﷺ نے مذاہب کی تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ دیا کہ آپ نے عقیدہ کو مادیات سے الگ کر دیا۔ مذہبی عقیدہ کی بنیاد آپ نے خدائی شریعت پر رکھی اور مادی شعبوں کے بارے میں انسان کو آزادی دے دی کہ تم سائنسی انداز میں اس پر ریسرچ کرو اور ریسرچ کے ذریعہ جو بات ثابت ہو اس کو اختیار کر لو۔ مقدس عقیدہ کو مادی شعبوں سے الگ کرنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ دراصل مادی ترقی کے عمل میں حائل رکاوٹ کو دور کر دینے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ زراعت اور باغبانی جیسے شعبے قانون فطرت کے تحت ہیں نہ کہ قانون شریعت کے تحت۔ انسانی زندگی کی تشکیل بلا شبہ شرعی قانون کے تحت ہونی چاہئے۔ مگر زراعت اور باغبانی، انجینیرنگ اور تعمیرات، مشین سازی اور کار خانہ سازی، اس قسم کے مادی شعبے جو فطرت کے قانون پر مبنی ہیں، ان کو اس طرح قائم کیا جائے تاکہ ان کے بارے میں آزادانہ ریسرچ کی جائے گی اور تجربات کئے جائیں گے۔ آزادانہ ریسرچ اور تجربات کے ذریعہ جو طریقہ مفید ثابت ہو اس کو درست مان کر اختیار کر لیا جائے گا۔ مادی شعبوں کی تعمیر کے لئے یہی واحد کار گر اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ مذہب کو ذاتی عقیدہ کی چیز مانا جائے۔ ہر آدمی کو آزادی ہو کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو اپنے پسندیدہ مذہب کے مطابق بنائے۔ اگر کسی سماج میں تمام کے تمام لوگ ایک مذہب کو ماننے والے ہوں تو وہاں قانون اور اقتصادیات اور سیاسیات کے شعبوں کو بھی مذہب کے دائرہ میں لانا ممکن ہو جائے گا۔ لیکن جہاں تک مادی شعبوں کا تعلق ہے، ان میں مذہبی عقیدہ کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔ مثلاً زمینی ذخائر کا استعمال، شہری منصوبہ بندی، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، کارخانہ بنانا اور کمیونی کیشن کا نظام قائم کرنا۔ سفر کے لئے سواریوں کا انتظام کرنا، اس قسم کی تمام چیزیں سائنس اور ٹکنالوجی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader