اسلام کا رول
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ مذہبی عقیدہ ہے۔ کوئی شخص اگر سرسوتی کو علم کی دیوی مانتا ہے تو اپنے گھر میں وہ اس کی پرارتھنا کر سکتا ہے۔ مگر تعلیمی اداروں میں اس کی پرارتھنا ایک سراسر غیر مفید بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے الیکٹرانک میڈیا میں "غریبی ہٹاؤ غریبی ہٹاؤ" کا ٹیپ بجا کر کوئی شخص یہ سمجھے کہ ملک کی غریبی ختم ہو جائے گی۔ دنیا میں جن ملکوں نے علم کے میدان میں بڑی بڑی ترقیاں کی ہیں ان میں سے کوئی بھی ملک نہیں جو علم کی دیوی کے گیت گا کر ترقی یافتہ بن گیا ہو۔ ہر ایک نے خالص سیکولر انداز میں اپنا تعلیمی پروگرام بنایا، اس نے مکمل طور پر فن تعلیم کی روشنی میں اپنا منصوبہ بنا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ اس قسم کے شعبوں میں مذہبی عقیدے کو دخل دینا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ سرے سے خود مطلوب ترقی حاصل نہ ہو سکے۔ توہمات کا خاتمہ صحیح البخاری اور حدیث کی دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدنی دور میں ایک بار سورج گرہن کا واقعہ پیش آیا۔ اتفاق سے اسی دن پیغمبر اسلام ﷺ کے کم سن صاحبزادہ ابراہیم کی وفات ہوئی۔ چونکہ اس زمانہ میں گرہن کے بارے میں ایک عقیدہ یہ تھا کہ بڑے لوگوں کی موت پر سورج گرہن، چاند گرہن پیش آتے ہیں، اس بنا پر وہاں کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آج کے دن چون کہ پیغمبر کے صاحبزادہ کی وفات ہوئی ہے اس لئے یہ سورج گرہن پیش آیا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ تیزی سے مدینہ کی مسجد میں پہنچے۔ آپ نے وہاں لوگوں کو جمع کیا۔ اس کے بعد لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کی موت یا زندگی کی بنا پر واقع نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ پس جب سورج گرہن یا چاند گرہن کو دیکھو تو عبادت کرو۔ اور اللہ سے دعا کرو۔ اس کے بعد آپ نے مسجد میں جماعت کے ساتھ لمبی نماز ادا کی اور دعا فرمائی۔ (صحیح البخاری، کتاب الکسوف)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader