دین کا کائنات
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ حدیدی کردار کا حامل بنا ہوا ہو۔ وہ کبھی اپنے قول سے نہ پھرے۔ وہ کبھی اپنے عمل میں کمزوری نہ دکھائے۔ وہ ایک پختہ سیرت والا آدمی ہو ۔ وہ لوہے کی طرح قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک بن جائے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ”اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں ترازو رکھ دی کہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔ (الرحمن ۷۔ ۸) اللہ تعالیٰ نے زمین میں نہایت مناسب کشش رکھی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ترازو بالکل درست تولتا ہے۔ اس طرح اللہ نے دنیا میں انصاف کا ایک علامتی نمونہ قائم کر دیا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ دوسروں سے معاملہ کرنے میں وہ کبھی غیر منصفانہ روش اختیار نہ کرے ۔ ایک درست ترازو کی طرح وہ ایسا کرے کہ جب اس کو دوسروں سے لینا ہو تو ٹھیک اتنا ہی لے جتنا کہ اس کا حق ہے۔ اسی طرح جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ ان کا پورا حق ادا کرے ۔ وہ لین دین میں غیر منصفانہ قسم کی ہر کمی اور زیادتی سے اپنے آپ کو بچائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آسمان میں تمام اجرام گھوم رہے ہیں ۔ ”نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں۔ (یس ۴۰) خلا میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں۔ یہ سب کے سب نہایت تیزی کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ مگر ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ستارہ یا سیارہ حد درجہ پابندی کے ساتھ اپنے مدار (orbit) میں گھومتا ہے ۔ وہ کبھی اپنے مقرر مدار سے نہیں ہٹتا۔ ٹھیک یہی روش انسان سے بھی مطلوب ہے۔ ہر انسانی فرد اور ہر انسانی گروہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح جاری کرے کہ اس کا ٹکراؤ ایک دوسرے سے نہ پیش آئے۔ کوئی بھی شخص یا قوم یہ نہ کرے کہ وہ اپنا فائدہ لینے کے لئے دوسرے کو نقصان پہچانے لگے۔ خلا کے تمام متحرک اجرام دوسروں کے لئے مسئلہ بنے بغیر اپنا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے مقصد کو اس طرح حاصل کرے کہ اس نے دوسروں کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader