Urdu book · تعمیر انسانیت

اسلام کا رول

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ ایک انقلابی اعلان تھا جو تاریخ میں پہلی بار کیا گیا۔ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال سے توہماتی افکار کا غلبہ تھا۔ انھیں میں سے ایک یہ تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے بے بنیاد نظریات رائج تھے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اثر دھا ہے۔ وہ غصہ ہو کر سورج اور چاند کو نگلنے کی کوشش کرتا ہے، اس سے گرہن واقع ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جب کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو اس کے اثر سے سورج اور چاند کو گر ہن لگ جاتا ہے، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے پہلی بار انسان کو یہ بتایا کہ سورج گرہن اور چاند گر ہن کا ان توہماتی نظریات سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف فطرت کے مظاہر ہیں اور وہ معلوم فلکیاتی قوانین کے تحت واقع ہوتے ہیں۔ اس طرح پیغمبر اسلام نے انسان کو توہماتی طرزِ فکر کے دور سے نکالا اور اس کو سائنسی طرزِ فکر کے دور میں داخل کر دیا۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ فطرت کے مظاہر پر سائنسی انداز میں غور و فکر کیا جائے۔ اور فرضی قیاسات کے بجائے حقیقی اسباب کی روشنی میں نظریات قائم کئے جائیں۔ اسی انقلابی رہنمائی کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان وہ بے شمار توہمات نہیں پھیلے جو ہزاروں سال سے دنیا میں چلے آ رہے تھے۔ اس کے نتیجہ میں سب سے پہلے یہ ہوا کہ مسلم سماج حقیقت پسندانہ سماج بن گیا۔ اس کے بعد جب مسلمان عرب سے نکل کر دنیا کے مختلف ملکوں میں گئے تو یہ غیر توہماتی فکر ہر جگہ پھیل گیا۔ یہ تاریخی عمل مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں وہ چیز ظہور میں آئی جس کو سائنسی طرزِ فکر کہا جاتا ہے، اور جو تمام علمی اور مادی ترقیوں کی فطری بنیاد ہے۔ علم کی عمومی اشاعت اسلام سے پہلے کسی بھی زمانہ میں علم کی عمومی اشاعت نہ ہو سکی۔ قدیم زمانہ کی پوری معلوم تاریخ علم کی عمومی اشاعت سے خالی ہے۔ اس زمانہ میں مختلف مقامات پر کچھ ایسے افراد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page