اسلام کا رول
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرور پیدا ہوئے جنہوں نے علمی تحقیق میں دلچسپی لی مثلاً یونان، مصر، شام، انڈیا، چین، وغیرہ۔ انہوں نے اپنی علمی دریافتوں کو کتابوں کی صورت میں قلم بند کیا مگر یہ کتابیں عمومی طور پر پھیل نہ سکیں۔ وہ انفرادی دائرہ میں محدود ہو کر رہ گئیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں مذہب اور کلچر کا جو ڈھانچہ تھا وہ مکمل طور پر توہماتی روایات پر مبنی تھا۔ ہر قوم توہماتی عقائد میں جی رہی تھی۔ ایسی حالت میں لوگ علمی تحقیقات سے ڈرتے تھے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتے تھے کہ اگر کوئی نئی تحقیق سامنے آگئی تو ان کا توہماتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ اس بنا پر وہ علمی تلاش و جستجو کے سخت مخالف بنے رہے۔ اسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے مذہب کو توہماتی اجزاء سے پاک کیا۔ اس نے مذہب کو توہمات کے بجائے فطرت کے اٹل قوانین پر قائم کیا۔ اس مذہبی انقلاب نے اہل اسلام کو اس ذہنی پیچیدگی سے پاک کر دیا جس میں پچھلے لوگ مبتلا رہتے تھے۔ اب ان کو یہ خطرہ نہیں رہا کہ کوئی علمی دریافت ان کے مذہب کو غلط ثابت کر دیگی۔ وہ اس یقین میں جیتے تھے کہ ہر علمی دریافت اسلام کے مطابق ثابت ہوگی کیوں کہ جو اسلام ہے وہی فطرت ہے، اور جو فطرت ہے وہی اسلام ہے۔ اس یقین نے اہل اسلام کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ ساری دنیا کے علوم کو حاصل کریں۔ اس مقصد کے تحت ہر جگہ کی علمی کتابوں کا عربی ترجمہ کرنے کے لئے بڑے بڑے مراکز قائم ہوئے۔ ان میں سے بغداد کا بیت الحکمت (۸۳۰ء) اور قاہرہ کا دار الحکمت (۱۰۰۵ء) زیادہ مشہور ہیں۔ اس زمانہ میں دنیا بھر کی علمی کتابوں سے استفادہ کرنا ایک عمومی تحریک بن گیا۔ امراء اور حکام نے بڑی بڑی رقمیں خرچ کر کے اپنے وفود دنیا کے مختلف شہروں میں بھیجے اور وہ علمی ذخیرے جو گھروں اور کتب خانوں میں بند پڑے ہوئے تھے ان کو حاصل کر کے ان کے ترجمے عربی زبان میں کرائے۔ اس طرح یہ قدیم علوم پہلے مسلمانوں کے درمیان پھیلے۔ اس کے بعد یہ علوم مسلمانوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader