اسلام کا رول
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
پیش قدمی کے ساتھ دوسرے ملکوں میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے جب اسپین میں سلطنت قائم کی تو یہ عربی کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہونے لگیں۔ اس طرح یہ علوم افریقہ اور ایشیا اور یورپ کی پوری آباد دنیا میں پھیل گئے۔ جبر کا خاتمہ اور آزادی کا آغاز قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں جبر کا نظام قائم تھا۔ ہر ملک میں نسلی بادشاہی کا رواج تھا۔ بادشاہ اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لئے جبر کی فضا کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ انسانی آزادی کے تصور کو فروغ دینے میں مستقل رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اس زمانہ میں ہر جگہ یہ ماحول قائم تھا کہ سوچنا حکمراں کا کام ہے، بقیہ لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ تابعداری کی زندگی پر قانع رہیں۔ علمی اور فکری ترقی ہمیشہ آزادی کے ماحول میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس جابرانہ نظام کے تحت انسان کا علمی اور فکری ارتقا بھی مسلسل رکاربا۔ مثال کے طور پر رومن ایمپائر نے دنیا کے بڑے حصہ پر دو ہزار سال تک حکومت کی۔ اس کی سلطنت کا رقبہ یورپ، ایشیا، افریقہ کے بیشتر آباد حصہ پر پھیلا ہوا تھا۔ تاہم دو ہزار سال کی اس مدت میں کوئی بھی قابلِ ذکر علمی اور فکری ارتقا ممکن نہ ہو سکا۔ اسلام نے اس جبری نظام کے خلاف تحریک شروع کی۔ یہ آواز وقت کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئی۔ چنانچہ پہلے ہی دور میں اہل اسلام کا مقابلہ اس زمانہ کی دوسب سے بڑی سلطنتوں، رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے پیش آگیا۔ یہ مقابلہ اپنی آخری متشددانہ حد تک پہنچ گیا۔ اس مقابلہ میں آخر کار اہل اسلام کی جیت ہوئی۔ اور یہ دونوں سلطنتیں اور اسی کے ساتھ ان کی حلیف حکومتیں ہمیشہ کے لئے صفحۂ سیاست سے مٹ گئیں۔ مورخین نے عام طور پر اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے اگر رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو نہ توڑانہ ہوتا تو انسانی تاریخ میں آزادی کا دور شاید کبھی نہ آتا۔ اسلام کا لایا ہوا آزادی کا یہ انقلاب بھی ایک تاریخی عمل (historical process) کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader