Urdu book · تعمیر انسانیت

اسلام کا رول

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت میں قوموں کے درمیان جاری رہا۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس پر مختلف نشیب وفراز آتے رہے۔ لیکن کوئی بھی چیز اس عمل کو روک نہ سکی۔ انسانی آزادی کا یہ دھارا مسلسل آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب مختلف اسباب کے تحت انسانی آزادی ایک ایسا مسلم اجتماعی اصول ہے جس کی تردید کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اخلاقیات کی تکمیل پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ : بعثت لاتمم حسن الاخلاق (موطا امام مالک ۶۵۱)۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ انسانی سماج میں پہلی بار جس نے اخلاق کا حقیقی نظام قائم کیا وہ اسلام ہی تھا۔ اسلام نے پہلی بار اخلاقیات کے لئے بنیاد فراہم کی۔ قدیم زمانہ میں اخلاق کا کوئی عمومی معیار قائم نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کے لئے ایک مددگار نظریہ درکار ہوتا ہے، اور قدیم زمانہ میں اخلاق کے حق میں کوئی موثر قسم کا اخلاقی نظریہ موجود نہ تھا۔ یونانی فلسفیوں نے یہ کہا تھا کہ زندگی ابتداۂ نباتات کی صورت میں پیدا ہوئی۔ اس کے بعد وہ حیوانات کے دور میں داخل ہو گئی۔ اور پھر انسان کی صورت میں وہ تکمیل تک پہنچی۔ اسی نظریہ کو موجودہ زمانہ میں چارلس ڈارون نے زیادہ سائنٹفک انداز میں پیش کیا جس کو حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کے تحت انسان کی حیثیت ایک محترم شخصیت کی نہیں رہتی، وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کوئی درخت یا حیوان۔ ایسی حالت میں ایک انسان کے اندر دوسرے انسان کے لئے اعلیٰ اخلاقی جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔ دوسرا نظریہ وہ تھا جس کو ہندستان میں آواگون کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ہر انسان اپنے پچھلے جنم کا پھل پارہا ہے، یعنی وہ جیسا ہے ویساہی اس کو اپنے پچھلے جنم کی بنا پر ہونا چاہئے۔ اس نظریہ میں بھی رحم کا عنصر ختم ہو جاتا ہے جو اخلاقیات کی لازمی بنیاد ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page