اسلام کا رول
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
تیسرا عمومی نظریہ جو تاریخ کے ہر دور میں رائج رہا ہے وہ یہ ہے کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے۔ جب کوئی مرتا ہے تو اسی وقت وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی اخلاقیات کے لئے کوئی مؤثر بنیاد نہیں۔ اس قسم کا نظریہ صرف وہ چیز پیدا کر سکتا ہے جس کو استحصال (exploitation) کہا جاتا ہے۔ اسلام نے ان سب کے بجائے احتساب (accountability) کا تصور دیا جو اخلاق کے حق میں یقینی طور پر ایک مددگار نظریے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ انسان مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں پیش ہو گا اور وہاں اپنے موجودہ اخلاقی عمل کے مطابق سزا یا انعام پائے گا۔ یہ نظریہ اخلاق کے حق میں ایک طاقتور محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد جو اخلاقی سماج بنا دیا گیا سماج اس سے پہلے دنیا میں نہیں بناتھا۔ پر امن جد و جہد کی تعلیم قدیم زمانہ میں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لئے انسان صرف ایک ہی طریقہ کو جانتا تھا، اور وہ مسلح جد و جہد ہے۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار پر امن جد و جہد کا تصور رائج کیا اور اس کی ایک کامیاب عملی مثال بھی تاریخ میں قائم کر دی جو ابدی طور پر لوگوں کے لئے ایک ماڈل کا کام دے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ ـــــ اور تم قرآن کے ذریعہ جہاد کرو، بڑا جہاد (وجاهد هم به جهاداً كبيرا) قرآن صرف ایک کتاب ہے نہ کہ کوئی شمشیر۔ اس لئے اس حکم کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ تم اپنی جد و جہد کے لئے پر امن طریقہ (peaceful method) کو اپناؤ۔ غیر متشددانہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مشن کو کامیابی تک پہنچاؤ۔ اسی بات کو قرآن میں دوسری جگہ اس طرح کہا گیا ہے کہ "وتواصوا بالحق، وتواصوا بالصبر" تم ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader