Urdu book · تعمیر انسانیت

اسلام کا رول

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی حق کے لئے صبر کرتے ہوئے جدوجہد کرو۔ دوسرے لفظوں میں، اس سے مراد پر امن جدو جہد ہے۔ کیوں کہ صبر کے بغیر پرامن جدوجہد نہیں ہو سکتی۔ یہی بات حدیث میں بھی مختلف انداز میں بتائی گئی ہے۔ مثلاً صحیح البخاری کی ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ (ان اللہ يعطی علی الرفق مالا يعطی علی العنف) لفظ بدل کر دیکھا جائے تو یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں نان وائلنٹ ایکٹوزم (non-violent activism) یا پیس فل ایکٹوزم (peaceful activism) کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنا مشن عین اسی اصول پر چلایا اور اس کو آخری تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کی سیرت کا اس نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو اس سے پرامن جدوجہد کے تمام اصول کامیابی کے ساتھ مرتب کئے جاسکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نمایاں اصول یہ ہیں۔ ۱۔ تحریک کا آغاز دعوت سے کرنا نہ کہ عملی اقدام سے (ابتدائی دور رسالت) ۲۔ فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچنے سے پہلے عملی برائیوں کو برداشت کرنا (کعبہ میں بت) ۳۔ فریق ثانی کی زیادتی کے باوجود یک طرفہ صبر کرنا (مکی دور) ۴۔ جنگی ٹکراؤ کو آخری حد تک ٹالنا (غزوہ خندق) ۵۔ مقام نزاع سے اپنے آپ کو دور رکھنا۔ (ہجرت) ۶۔ صرف دفاع میں لڑنا، وہ بھی اس وقت جب کہ کوئی چارہ کار باقی نہ رہے (احد وحنین) ۷۔ اقدام میں خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا (مکہ کی طرف مارچ) ۸۔ جنگ چھڑ جائے تو ہر قیمت پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا (صلح حدیبیہ) ۹۔ قابو پانے کے باوجود دشمن کو معاف کرکے اس کو اپنا ساتھی بنالینا (فتح مکہ) ۱۰۔ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کرنا پیغمبر اسلام ﷺ صرف ۲۳ سال کی مدت میں پورے عرب میں ایک زبردست انقلاب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page