اسلام کا رول
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
لے آئے۔ اس جدوجہد کے دوران فریق مخالف نے ۸۰ سے زیادہ بار آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا مگر آپ کی پر امن پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عملاً صرف تین بار (بدر، احد، حنین) صرف آدھے آدھے دن کے لئے باقاعدہ جنگ پیش آئی، وہ بھی ناگزیر دفاع کے طور پر۔ اس پوری مدت میں دونوں جانب کے ڈیڑھ سو سے بھی کم آدمی مارے گئے۔ یہ پورے معنوں میں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) تھا۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں ایک عمل (process) جاری ہوا جو تاریخ میں مسلسل سفر کرتا رہا۔ اسلام کی پیدا کردہ دوسری تبدیلیوں کی طرح اسلام کا یہ پرامن انقلاب بھی پراس کے روپ میں تاریخ میں جاری رہا۔ موجودہ زمانہ میں اسی تصور نے پیسیفزم (peacifism) کے نام سے ایک مستقل سماجی نظریہ کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس میں کانٹ، سیموئل، کالون سے لے کر مہاتما گاندھی تک بہت سی شخصیتوں کے نام شامل ہیں۔ مگر جہاں تک اس کی عملی کامیابی کا تعلق ہے، اس کی کوئی بھی دوسری نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر ہندوستان کا گاندھیائی انقلاب (۱۹۴۷) عدم تشدد (non-violence) کے ذریعہ وجود میں آیا۔ مگر اس انقلاب نے ہندوستانی سماج کے اندر عمومی معنوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں پیدا کی۔ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ انگریزی افراد کے بجائے کچھ ہندوستانی افراد حکومت پر قابض ہو گئے۔ اسی طرح ساؤتھ افریقہ کا حالیہ انقلاب بھی سماجی معنوں میں وہاں کوئی صالح تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔ اس کے نتیجہ میں دوبارہ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ملک میں سفید فام افراد کے بجائے کچھ سیاہ فام افراد اقتدار کے منصب پر قابض ہو گئے، وغیرہ۔ جمہوری دور کا آغاز اسلام سے پہلے ساری دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا۔ یہ سیاسی رواج ہزاروں سال سے چلا آرہا تھا۔ اس نظام کے تحت صرف شاہی خاندان سارے اختیارات کا مالک ہوتا تھا۔ عوام کی حیثیت صرف رعایا کی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں آزاد شہری کی۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader