اسلام کا رول
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا کوئی بھی طالب علم اس سے ناواقف نہیں۔ اسلام نے پہلی بار قومی زندگی میں جمہوریت کا آغاز کیا جس کو قرآنی زبان میں شورائیت کہا جاتا ہے۔ یہ جمہوری تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: امرھم شوریٰ بینھم (الشوریٰ ۳۸) یعنی ان کے اجتماعی اور سیاسی معاملات کا فیصلہ باہمی مشورہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ قدیم انسانی تاریخ میں اسلام نے پہلی بار یہ سیاسی روایت قائم کی کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ کا تقرر نسلی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ عوام کی رائے سے کیا گیا۔ اسلام کے دور اول میں چاروں معیاری خلفاء اسی طرح جمہوری انداز میں منتخب کئے گئے۔ اس طرح اسلام نے تاریخ میں پہلی بار نسلی بادشاہت کے بجائے عوامی جمہوریت کا اصول سیاست کی دنیا میں قائم کیا۔ بعد کی تاریخ میں اگر چہ یہ جمہوری اصول اپنی معیاری صورت میں رائج نہ رہ سکا، تاہم اسلامی انقلاب کے اثر سے یہ فضا ہمیشہ قائم رہی کہ کسی سلطان کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ قدیم طرز کا مطلق العنان بادشاہ بن جائے۔ بنوامیہ کے دور میں سلیمان بن عبد الملک نے اپنے ذاتی فیصلے کے تحت شاہی خاندان کے ایک فرد عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ نامزد کیا۔ جب عمر بن عبد العزیز کو تقرر نامہ ملا تو انھوں نے دمشق کی وسیع مسجد میں لوگوں کو جمع کیا اور یہ اعلان کیا کہ اس شاہی تقرر نامہ کو میں تمہاری طرف واپس کرتا ہوں۔ اب تم لوگوں کو اختیار ہے تم جس کو چاہو اس کو اپنی آزاد رائے سے اپنا خلیفہ منتخب کر لو۔ لوگوں نے بالاتفاق رائے کہا کہ ہم آپ ہی کو خلیفہ کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے خلیفہ المسلمین کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا۔ اس طرح کی انقلابی تبدیلی انسانی سماج میں فوری طور پر نہیں آتی۔ اس کے مکمل ظہور کے لئے لمبا عرصہ در کار ہوتا ہے۔ یہی اس معاملہ میں بھی پیش آیا۔ اسلام کا پیدا کردہ جمہوری انقلاب تاریخ میں ایک عمل (process) کے روپ میں جاری ہو گیا۔ وہ ملک در ملک مسلسل سفر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اٹھار ہویں صدی میں یورپ میں داخل ہو کر وہ فرانس کے جمہوری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader