Urdu book · تعمیر انسانیت

اسلام کا رول

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

انقلاب کی صورت میں اپنی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچا۔ موجودہ جمہوریت، جس کو مغربی جمہوریت کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسلام کے اسی شورائی نظام کا ایک سیکولر ایڈیشن ہے۔ انقلاب کا نمونہ قائم کرنا انقلاب (revolution) کا لفظ اہل فکر کے لئے ایک بے حد پسندیدہ مقصود (cherished goal) رہا ہے۔ مگر معلوم تاریخ میں یہ مقصد پورے معنوں میں صرف ایک بار حاصل کیا جا سکا۔ یہ پیغمبر اسلام ﷺ کا لایا ہوا انقلاب تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے واقعات کو انقلاب (ریولوشن) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ تمام واقعات اپنی حقیقت کے اعتبار سے کُو (coup) تھے نہ کہ کوئی ریولوشن۔ ان تمام واقعات میں جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ لمبے خونی مرحلہ کے بعد ایک حکمران اس گروہ ہٹا دیا گیا اور دوسرے حکمراں اس گروہ کو اس کی جگہ پر بٹھا دیا گیا۔ جب کہ ریولوشن ایک ایسے عمومی واقعہ کا نام ہے جس میں اخلاقی، معاشی، سماجی، غرض، زندگی کے ہر دائرہ میں نئی صالح تبدیلی وقوع میں آجائے۔ اور ایسا پوری انسانی تاریخ میں صرف ایک بار اسلامی انقلاب کی صورت میں پیش آیا۔ انقلابی تحریکوں کی لمبی ناکام تاریخ میں اسلام کا یہ تجربہ روشنی کے ایک بلند مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل کے بعد پہلی بار ایک ایسا سماج وجود میں آیا جو ایسے افراد پر مشتمل تھا جن کے کیریکٹر پر اعتماد کیا جا سکتا تھا۔ جس میں معاشی استحصال کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ جہاں ہر انسان ہر قسم کے فرق کے باوجود برابری کے ماحول میں رہ سکتا تھا۔ جس میں انسانی تعلقات کی بنیاد استحصال(exploitation) کے بجائے برادرانہ تعاون پر قائم کی گئی تھی۔ جہاں سیاسی حکمراں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے نہ کہ لوگوں کے آقا کی طرح، جہاں ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ عدالت سے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔ اس کامیاب عملی مثال کے ذریعہ اسلام ساری انسانیت کو ایک ایسا حقیقی نمونہ دے رہا ہے جس کی پیروی کر کے وہ بہتر دنیا کے بارے میں اپنے خواب کی تکمیل کر سکے۔ اسلامی انقلاب ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page