Urdu book · تعمیر انسانیت

دین کا کائنات

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی مسئلہ کھڑا نہ کیا ہو۔ خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی جو کتابیں نازل فرمائیں ان کا مقصد اسی قانون فطرت کا شرعی اظہار تھا۔ مگر اب کوئی سابق کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں رہی۔ اب صرف قرآن خدا کی واحد محفوظ کتاب ہے۔ اس بنا پر اب صرف قرآن تنہا مستند ذریعہ ہے، جس سے کوئی شخص صحیح طور پر یہ جان سکتا ہے کہ دنیا میں وہ کس طرح زندگی گزارے، جس کے بعد آخرت میں وہ خدا کا محبوب بندہ ٹھہرے۔ اس کو دنیا میں بھی خدا کی رحمتیں ملیں اور آخرت میں بھی۔ قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا، بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر رحمت فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (الاحزاب ۷۲-۷۳) اس آیت میں خدا کا وہ منصوبہ بتایا گیا ہے جس کے تحت اس نے موجودہ کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق بقیہ کائنات اس بات کی پابند ہے کہ وہ خدا کے حکم سے کسی بھی قسم کا کوئی انحراف نہ کرے۔ وہ آخری حد تک اطاعت شعارانہ انداز میں خدا کے تخلیقی نقشہ کی تکمیل کرتی رہے۔ اس کے مقابلہ میں انسان کو انتخاب (choice) کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کا پابند بنائے اور چاہے تو اس کے خلاف عمل کرے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ملے ہوئے اختیار کا غلط استعمال نہ کرے۔ وہ اپنی سوچ کو خدائی نقشہ کا تابع بنائے۔ وہ اپنی کارروائیوں میں کبھی جائز حد سے باہر نہ جائے ۔ وہ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہمیشہ خدائی انصاف کا پابند بنا رہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہے۔ وہ دوسروں کے اوپر خدا بننے کی کوشش نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page