Urdu book · تعمیر انسانیت

نمونہ انسانیت

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

نمونۂ انسانیت سوامی ویویکانند (۱۹۰۲-۱۸۶۳) نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ میرا تجربہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب انسانی برابری کی منزل تک قابلِ لحاظ حد تک پہونچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ اس لیے میرا یہ قطعی خیال ہے کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر، ویدانترزم کے نظریات، خواہ وہ کتنے ہی اچھے اور شاندار ہوں، عام انسان کے لیے بالکل بے فائدہ ہیں۔ ہمارے مادر وطن کے لیے دو عظیم نظاموں کا ملاپ ، ہندوازم اور اسلام - ویدانت دماغ اور اسلام جسم - واحد امید ہے۔ میں اپنے ذہن کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان، انتشار اور افتراق سے نکل کر ویدانت دماغ اور اسلام جسم کے ذریعہ کامیاب اور فتح مند ہو رہا ہے : مہاتما گاندھی (۱۹۴۸ - ۱۸۶۹) کانگریسی لیڈروں کو یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ وہ خلیفہ ابوبکر اور خلیفہ عمر کی پیروی کریں: گاندھی جی نے ایک بار اپنے اخبار (ہریجن) میں لکھا تھا کہ سادگی کانگریسیوں ہی کا اجارہ نہیں ۔ میں رام چندر اور کرشن کا حوالہ نہیں دیتا۔ کیوں کہ وہ تاریخی شخصیتیں نہ تھیں۔ میں مجبور ہوں کہ ابو بکر اور عمر کے نام کا حوالہ دوں۔ اگر چہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے۔ مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page