نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
Simplicity is not the monopoly of Congressites. I am not going to men- tion the names of Rama and Krishna because they were not historic personalities. I am compelled to mention the names of Abu Bakr and Umar. Though they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers. Harijan, July 27, 1937. یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی شخصیتوں نے اسلام کی صورت میں جو تاریخ بنائی ہے، وہ ساری انسانیت کے لیے نمونہ کی تاریخ ہے۔ اسلام نے اُن اوصاف کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں۔ جن کو انسانی اوصاف کہا جاتا ہے۔ فرضی قصے کہانیوں کی صورت میں کوئی بھی شخص ایک کتاب لکھ سکتا ہے ۔ مگر انسانیت کے نمونے کے لیے حقیقی کردار کا حوالہ دینا ہو تو اسلامی شخصیتوں کے سوا کسی اور کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس اعتبار سے یہ اسلامی شخصیتیں ساری انسانیت کا مشترک اخلاقی ورثہ ہیں۔ وہ تمام انسانوں کے لیے بہترین اخلاقی نمونہ ہیں یہاں ہم اس بات کی وضاحت کے لیے مختلف پہلوؤں سے چند تاریخی مثالیں نقل کریں گے۔ اعتماد و توکل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تبلیغ کے تقریباً بارہ سال اسی شہر میں گزارے۔ اس زمانہ میں مکہ پر مشرکوں کا غلبہ تھا۔ انھوں نے آپ کو سخت تکلیفیں پہونچائیں ۔ یہاں تک کہ آپ کو مار ڈالنے کے درپے ہو گئے۔ جب یہ نوبت آگئی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے ۔ اس وقت حالات اتنے سخت تھے کہ مکہ سے نکل کر سیدھے مدینہ جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس لیے آپ جب مکہ چھوڑ کر نکلے تو ابتر دائر تین دن تک غارِ ثور میں مقیم رہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کے اوپر ایک تنگ مقام پر واقع تھا۔ تاہم آپ کے دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے وہاں بھی پہونچ گئے۔ آپ اپنے رفیق حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ غار میں تھے اور آپ کے دشمن تلواریں لیے ہوئے غار سے اتنے قریب کھڑے ہوئے تھے کہ آپ ان کے قدموں کو دیکھ سکتے تھے ۔ تمام ظاہری قرائن کے مطابق ہلاکت آپ کے بالکل قریب پہونچ چکی تھی ۔ حضرت ابوبکر صدیق کو یہ صورت حال دیکھ کر سخت تشویش ہوئی ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader