Urdu book · تعمیر انسانیت

نمونہ انسانیت

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

(جن کا تیسیراللہ ہو) یہ فقرہ بلاشبہ توکل و اعتماد کا انتہائی کامل نمونہ ہے۔ اس واقعہ میں انسان توکل کے اس آخری مقام پر نظر آتا ہے جس کے آگے اس اعلیٰ انسانی صفت کا کوئی درجہ نہیں ۔ ناخوشگوار یوں پر صبر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ ہے۔ ایک قحط زدہ علاقہ کی مدد کے لیے آپ نے ایک یہودی تاجر سے کچھ دینار قرض لیے۔ اس یہودی کا نام زید بن سعنہ تھا۔ زید بن سعنہ سے یہ طے ہوا کہ آپ فلاں مقررہ مدت پر ۸۰ مثقال کھجوریں ادا کریں گے۔ کھجوروں کی ادائیگی کے وقت میں ابھی دو تین دن باقی تھے کہ زید بن سعنہ اچانک آئے ۔ اور ترش روئی کے ساتھ اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت آپ کے کندھے پر ایک چادر پڑی ہوئی تھی ۔ زید بن سعنہ نے چادر کو پکڑ کر زور سے کھینچا اور کہا کہ اے محمد میرا قرض کیوں نہیں ادا کرتے خدا کی قسم ، میں اولادِ مطلب کو جانتا ہوں ۔ وہ سب کے سب ناد ہند ہیں۔ اس وقت حضرت عمر بن الخطاب آپ کے پاس موجود تھے ۔ وہ غصہ ہو گئے اور بگڑ کر کہا کہ اے خدا کے دشمن تو یہ کیا کہہ رہا ہے۔ کیا تو اس سے نہیں ڈرتا کہ تیری گردن ماردی جائے ۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بھی غصہ نہیں ہوئے ۔ حتی کہ یہ بھی نہیں کہا کہ تم وقت سے پہلے کیوں قرض کا تقاضا کر رہے ہو۔ اس کے بجائے آپ نے حضرت عمر کو تنبیہ کی اور کہا کہ اے عمر، میں اور یہ ایک اور چیز کے زیادہ محتاج تھے ، وہ یہ کہ تم مجھ کو حق کی بہتر ادائیگی کے لیے کہتے اور اس کو حق کے بہتر مطالبہ کے لیے۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ زید بن سعنہ کو مقررہ مقدار میں کھجوریں ادا کر دی جائیں۔ نیز عمر کی سخت کلامی کے بدلے میں ۲۰ صاع کھجور اور زیادہ دی جائے۔ زید بن سعنہ آپ کے اس سلوک کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرب کے حکمراں تھے۔ وہ زید بن سعنہ کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے زید بن سعنہ کی گستاخی اور بدسلوکی کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا۔ آپ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔ یہ ایک انتہائی کامل اور تاریخی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اعلیٰ انسانی سلوک کیا ہے۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page