Urdu book · تعمیر انسانیت

نمونہ انسانیت

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

کس طرح ایسا ہو سکتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ایک شخص صبر و برداشت کے اصول پر قائم رہ کر زندگی گزار سکے۔ اعزاز کے بجائے ذمہ داری ابوبکر بن ابی قحافہ اسلام کے پہلے خلیفہ ہیں۔ ان کا زمانہ خلافت ۶۳۲ سے ۶۳۴ ء تک ہے۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد جب ان کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو اس کو انھوں نے عہدہ نہیں سمجھا، بلکہ اس کو ایک ذمہ داری سمجھا۔ وہ خوش ہونے کے بجائے فکر مند ہو گئے ۔ بیعت کے بعد جب وہ لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے ممبر پر کھڑے ہوئے تو احساس ذمہ داری کے تحت ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔ انھوں نے کہا : ایہا الناس قد ولّیت علیکم ولست بخيركم۔ اے لوگو، میں تمہارے اوپر حاکم بنایا گیا ہوں، فإن أحسنتُ فأعينوني وإن اسأتُ فقوموني۔ حالاں کہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں ۔ اگر میں اچھا الصدق أمانة والكذب خيانة۔ والضعیف کروں تو تم میری مدد کرو اور اگر میں برا کروں تو تم مجھے فيكم قوي عندي حتى آخذ له حقہ۔ کو سیدھا کر دو۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ والقوي ضعیف عندي حتى آخذ منہ خیانت ہے۔ اور تمہارا کمزور میرے نزدیک طاقتور الحق إن شاء الله تعالیٰ ۔ ہے جب تک میں اس کا حق اس کو نہ دلا دوں۔ ( الکامل لابن الاثیر ) اور تمہارا طاقت ور میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں، اگر اللہ نے چاہا۔ ابن سعد نے عطار بن السائب سے نقل کیا ہے کہ جب ابو بکر کی بیعت ہوئی تو اگلے دن لوگوں نے دیکھا کہ وہ حسب معمول اپنے کندھے پر کپڑا رکھے ہوئے بازار جا رہے ہیں ۔ عمر فاروق نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بازار جا رہا ہوں ۔ عمر فاروق نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اب آپ مسلمانوں کے حاکم ہیں۔ انھوں نے کہا میں اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلاؤں گا ۔ عمر فاروق نے کہا کہ ابو عبیدہ کے یہاں چلیے، وہ آپ کا کفاف مقرر کر دیں گے ۔ چنانچہ دونوں ابو عبیدہ کے یہاں گئے۔ انھوں نے ایک عام آدمی کے معیار کے مطابق ابو بکر صدیق کا روزینہ مقرر کر دیا۔ اس میں دو جوڑا کپڑا بھی شامل تھا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page