نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک جوڑا گرمی کے لیے، اور ایک جوڑا سردی کے موسم کے لیے۔ جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو آپ کے گھر میں نہ درہم تھا اور نہ دینار۔ صرف ایک زمین تھی۔ آپ نے وصیت کی کہ یہ زمین بیچ دی جائے اور اس کی قیمت سے وہ سب کچھ بیت المال میں واپس کر دیا جائے جو میں نے خلیفہ کی حیثیت سے لیا ہے۔ حکومتی عہدہ کو اعزاز سمجھنے کے بجائے ذمہ داری سمجھنے کی یہی مثال دوسرے خلفانے بھی قائم کی۔ یہ مثال تمام حکمرانوں کو بتاتی ہے کہ وہ کس طرح حکومت کو عزت و شہرت کی چیز نہ سمجھیں، بلکہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا ایک نازک منصب سمجھیں۔ یہی واحد چیز ہے جو کسی حکومت کو اس کے ماتحت عوام کے لیے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بناتی ہے۔ معبود کی یکتائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۶۳ سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت لوگوں کے اوپر عجیب دیوانگی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ آپ کا انتقال ہو سکتا ہے یا انتقال ہو گیا ہے۔ حضرت عمر فاروق اس معاملہ میں سب سے آگے تھے ۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے میں اس تلوار سے اس کی گردن مار دوں گا۔ مسجد نبوی میں زبردست خلفشار جاری رہتا۔ لوگ سخت مبہوت نظر آ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے۔ انھوں نے صورت حال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مسجد کے ایک طرف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اپنی تقریر میں انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: من كان يعبد محمداً فان محمداً قد مات ومن كان يعبد الله فان الله حي لا يموت (جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے۔ اس پر کبھی موت آنے والی نہیں) اس واقعہ میں انسان معرفت الہیٰ کے آخری درجہ پر نظر آتا ہے۔ انسان انسان ہے اور خدا خدا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا ہی اصل علم ہے۔ اور یہ واقعہ اس اصل علم کی آخری شاندار مثال ہے۔ حق کے آگے ڈھڑپڑنا اوپر جو واقعہ نقل کیا گیا اس موقع پر حضرت عمر فاروق کا کردار ابتداً بے حد انتہا پسندانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader