Urdu book · تعمیر انسانیت

نمونہ انسانیت

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا بدلہ ہے (انعام ۱۶۰) تو اے مدینہ کے تاجر ! گواہ رہو کہ میں نے یہ تمام غذائی سامان اللہ کے لئے ضرورت مندوں پر صدقہ کر دیا (العبقریات الاسلامیہ، صفحہ ۷۵۷) یہ واقعہ خدا کے وعدہ پر یقین کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ خدا پر ایمان آدمی کے اندر اسی قسم کا یقین و اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کا یقین و اعتماد پیدا ہو جائے وہ اغراض ومصالح سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اس کے حوصلے اتنا زیادہ بلند ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد بڑی سے بڑی قربانی بھی اس کے لیے مشکل چیز نہیں رہتی۔ عوام اور حاکم کے درمیان قانونی برابری حضرت علی بن ابی طالب اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے۔ انھیں غیر معمولی اقتدار حاصل تھا، مگر وہ لوگوں کے درمیان ایک عام انسان کی طرح رہتے تھے۔ نہ ان کا معیار زندگی دوسروں سے مختلف تھا اور نہ ان کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قانونی حقوق حاصل تھے۔ ترندی ، حاکم اور ابونیعیم نے حضرت علی بن ابی طالب کا ایک واقعہ اس طرح نقل کیا ہے۔ حضرت علی کے پاس ایک زرہ تھی جو اتفاق سے کھوئی گئی۔ ایک روز وہ کوفہ کے بازار کی طرف گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی زرہ بیچ رہا ہے۔ قریب جا کر دیکھا تو یہ وہی زرہ تھی جو ان سے کھوٹی گئی تھی۔ حضرت علی اس وقت ممالک اسلامی کے حکراں تھے۔ وہ چاہتے تو اسی وقت زرہ پر قبضہ کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا۔ انھوں نے نصرانی سے کہا کہ یہ زرہ میری ہے۔ تم اس کو لے کروت صفی کے پاس چلو۔ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے قاضی شریح تھے۔ چنانچہ دونوں بازار سے چل کر قاضی شریح کے یہاں پہنچے۔ شریح نے بحیثیت قاضی کے پوچھا کہ امیر المومنین ، آپ کیا کہتے ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ یہ زرہ میری ہے ، وہ مجھے واپس دلائی جائے ۔ شریح نے نصرانی سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو۔ اس نے کہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page