مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے ابتدائی دانشوروں نے اس کو صحیح فکری بنیاد یعنی مسابقت کے اصول پر قائم کیا۔ تاہم امریکی نظام میں اول دن سے ایک کمزوری شامل تھی۔ وہ یہ کہ یہ نظام مذہب اور سیاست کی تفریق کے اصول پر قائم کیا گیا۔ اس قسم کی تفریق اصولی طور پر غلط ہے مگر وہ کم از کم اقتصادی پہلو سے ایک قابل بقا (sustainable) نظام تھا۔ اس لئے وہ ظاہری ڈھانچہ کے اعتبار سے چلتا رہا اور بظاہر اب بھی چلا جارہاہے۔ تاہم گہرامطالعہ بتاتا ہے کہ امریکی نظام اب آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہورہا ہے۔ اس زوال کا نمایاں مظاہرہ 98-1999 میں موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی (Monica Lewinsky) کے واقعہ کی صورت میں ہوا۔ مونیکا لیونسکی واشنگٹن کے وائٹ ہاوس کی ایک نوجوان کارکن تھی۔ کلنٹن نے اس سے خفیہ جنسی تعلق قائم کر لیا۔ جب یہ راز افشا ہوگیا تو صدر کلنٹن نے دو اور غلطیاں کیں۔ ایک دروغ حلفی (perjury) اور دوسرے انصاف میں رکاوٹ ڈالنا۔ ۱۳ماہ تک اسمبلی کی سطح پر کیس چلتا رہا یہاں تک کہ ۱۲ فروری 1999 کو ممبران کی کثرت رائے سے کلنٹن کو بری کردیا گیا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ امریکی عوام کی تقریبا ۷۵ فیصد تعداد صدر کلنٹن کے مواخذہ (impeachment) کے خلاف تھی۔ امریکی عوام کی رائے یہ تھی کہ صدر کلنٹن نے امریکی اقتصادیات کو بہتر بنایا ہے۔ ایسی حالت میں اگر ان کی ذاتی زندگی غیر اخلاقی ہو تو ہمارے لئے وہ قابل لحاظ نہیں۔ امریکی عوام کے اس رجحان کی بنا پر صدر کلنٹن کے خلاف مواخذہ کی تحریک ناکام ہوگئی۔ ۲۰۰ سال پہلے امریکہ نے سیاست کو مذہب سے جدا کیا تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ امریکی قوم نے مزید آگے بڑھ کر اخلاقی اقدار (moral values) کو بھی اپنی سیاسی اور قومی زندگی سے الگ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دوسری علیحدگی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ ساری دنیا کے لوگوں نے اس کو جان لیا۔ بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا یہ قصہ ایک ایسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader