مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانے میں پیش آیا جب کہ دنیا میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ چنانچہ پورے ایک سال تک یہ معاملہ ہر روز لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ دنیا میں بسنے والا تقریباً ہر شخص اس کو جان گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں اخلاقی اقدار اور سیاست کے درمیان یہ جدائی خاموش عمل کے طور پر نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اعلان اور اشتہار کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ برائی امریکی سماج میں اگر خاموش عمل کے طور پر ہوتی تو وہ امریکہ کے لئے کچھ اور زندگی کی ضمانت بن سکتی تھی جیسا کہ قدیم بادشاہوں کے ساتھ پیش آیا۔ مگر اس کو علی الاعلان اختیار کر کے امریکہ نے اپنے زوال کے سفر کو بہت زیادہ تیز کر دیا ہے۔ کوئی بھی نظام اخلاقی صفات سے محروم ہو کر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور امریکہ یقینی طور پر اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ تیسری مثال ہندوستان کی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً سو سال کی جدوجہد کے بعد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو آزادی آئی۔ سوامی ودیکانند نے کہا تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان ورلڑ لیڈر بنے گا۔ مگر عملاً کیا ہوا۔ یہ ملک لمبی مدت سے اونچی ذات اور نیچی ذات کے دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر اونچی ذات والوں نے آزادی کو ہائی جیک (hijack) کر لیا۔ یہی لوگ آزادی کے بعد سے مسلسل ملک کے اوپر حکومت کر رہے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ملک کو ایسا نظام دینے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں جو مہاتما گاندھی کے الفاظ میں "ہر آنکھ کے آنسو پوچھے والا ہو۔" اس ناکامی کا سبب بالکل واضح ہے۔ ملک کے اونچے طبقہ (uppercast) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے وہ ایک ایسی محدود آئیڈیالوجی ہے جو پوری انسانیت کو اپنے دامن میں نہیں لیتی۔ اس آئیڈیالوجی میں اونچی ذات والوں کے لئے تو باعزت جگہ ہے۔ مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ اس آئیڈیالوجی کے مطابق، ہر آدمی جس حال میں ہے وہ خود اس کی اپنی ہی پچھلی زندگی کا لازمی اور ناقابل تقسیم نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ غریب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader