Urdu book · تعمیر انسانیت

مستقبل کی قیادت

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

اور مظلوم ہیں وہ فطرت کے جبری نظام کے تحت خود اپنے ماضی کے کردار کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ انھیں زندگی کے آخری لمحہ تک اس نتیجہ کو بہر حال بھگتنا ہے۔ یہ آئیڈیالوجی ملک کے نصف سے زیادہ حصہ کو اونچی ذات کے حکمرانوں کی نظر میں ایک ایسا کیس بنا دیتی ہے جس پر رحم کرنا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں۔ پیدائش کے اس جبری نظریہ نے اونچی ذات کے حکمرانوں کو جو آئیڈیالوجی دی وہ ایک محدود آئیڈیالوجی تھی۔ اس محدود آئیڈیالوجی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حکمرانوں کے دل میں وسیع تر انسانیت کے لئے نرم گوشہ پرورش نہ پا سکا۔ ان کے لئے آزادی صرف اس بات کا موقع بن گئی کہ وہ سب کچھ اپنے لئے جمع کر لیں اور دوسروں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں، کیونکہ دوسرے لوگ اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ وہ محروم رہ کر اپنے پچھلے دور حیات کی غلطیوں کی سزا پائیں اور اسی حال میں مر کر وہ اس دنیا سے چلے جائیں۔ نئے گروہ کی ضرورت حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ قیادت کی دعویدار تمام قو میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک نیا اور تازہ دم گروہ ابھرے جو اس خلا کو پر کرے، جو آنے والی اکیسویں صدی کو حقیقی معنوں میں انسان کے لئے ایک نئی اور بہتر صدی بنا دے۔ میرے اندازے کے مطابق یہ نیا گروہ ہندوستانی مسلمانوں کا گروہ ہے۔ تقریباً ۶۰ مسلم قوموں میں، ہندوستانی مسلمان استثنائی طور پر اس خصوصیت کے مالک ہیں کہ وہ انڈونیشیا کو چھوڑ کر سب سے بڑے عددی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ چیلنج انسانی ترقی کی لازمی شرط ہے، اور یہ شرط موجودہ دور میں صرف ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں پوری ہو رہی ہے۔ موجودہ ہندوستانی مسلمان ہی اس حالت میں ہیں کہ قانون فطرت کے تحت ان کے اندر وہ تخلیقی اور تعمیری اوصاف پیدا ہوں جو کسی قوم کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page