مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں قیادت کا اہل بناتے ہیں۔ علامہ اقبال اور مسٹر محمد علی جناح نے غالباً ہندوستانی مسلمانوں کو اسی تعمیری رول کے لئے کھڑا کرنا چاہا مگر انھوں نے اس کے لئے جو تدبیر اختیار کی وہ درست نہ تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ مسلمانوں کے لئے علیحدہ پاکٹ (پاکستان) بنانا ان کے لئے اس قسم کا موقع دینے والا ثابت ہوگا مگر بر عکس طور پر اس تدبیر نے ان مسلمانوں کو چیلنج کے ماحول سے محروم کر دیا، جب کہ چیلنج کا ماحول ہی کسی بڑے انسانی عمل کے ظہور میں آنے کی لازمی شرط ہے۔ تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان کے کچھ مسلم لیڈروں نے اس سلسلہ میں ایک نیا منصوبہ بنایا۔ انھوں نے چاہا کہ مسلم ۔ ملت اتحاد قائم کریں اور اس طرح مسلمانوں کو زیادہ طاقت ور حیثیت دے کر انھیں اس قابل بنائیں کہ وہ ملک میں کوئی بڑا رول ادا کر سکیں۔ مگر یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کی پہلی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ مسلم ۔ ملت اتحاد کا مقصد صرف مسلمانوں کے لئے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ وسیع تر ملکی مفاد اس کا حقیقی نشانہ نہیں تھا۔ اور اس قسم کی محدود اسکیم کسی بھی مشترک سماج میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہو تا ہے جس میں دوسروں کی خیر خواہی شامل ہو۔ محض اپنی خیر خواہی کی بنیاد پر بنایا ہوا منصوبہ قانون فطرت کے خلاف ہے اس لئے اس کا کامیاب ہونا بھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ لائحہ عمل حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں وہ اسٹیج مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے جس کو استعمال کر کے مسلمان اپنا تاریخی رول ادا کر سکیں۔ تاہم کوئی بڑا تاریخی رول صرف اس وقت ادا کرنا ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کی تمام ضروری شرائط پوری کی گئی ہوں، شرائط کی تکمیل کے بغیر اسباب کی اس دنیا میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ ۱۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اس پورے معاملہ کو خالص انسانی نقطہ نظر سے دیکھیں۔ وہ جو کچھ کریں عمومی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader