Urdu book · تعمیر انسانیت

مستقبل کی قیادت

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں۔ اپنی گروہی برتری کا قیام یا اپنے حقوق کا حصول جیسے ذاتی مقاصد کو لے کر اگر کوئی جدوجہد شروع کی گئی تو پیشگی طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ کبھی مثبت یا قابلِ لحاظ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت دوسروں کے حق میں خیر خواہی ہے۔ اسی طرح کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی خود غرضی ہے۔ مسلمانوں کے اندر یہ اخلاقی اور روحانی اسپرٹ پیدا کرنا مجوزہ مشن کا سب سے پہلا نکتہ ہوگا۔ ۲۔ موجودہ حالات میں دوسرا ضروری کام یہ ہے کہ بڑے پیمانہ پر ہندو مسلم ڈائیلاگ شروع کیا جائے۔ کھلے ذہن کے تحت تمام فکری اور نظریاتی پہلوؤں پر گفتگو ہو۔ یہ کام مناظرہ کے انداز میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ خالص سائنٹفک انداز میں ہونا چاہیے، یعنی وہی انداز جو آج بھی مذہب کے سوا دوسرے علمی موضوعات میں جاری ہے۔ ۳۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان صحت مند مقابلہ کے میدان میں پوری طرح داخل ہو جائیں۔ شکایت اور احتجاج اور مانگ اور مطالبات کے طریقہ کو مکمل طور پر ترک کردیں۔ وہ رعایت حاصل کر کے جینے کے بجائے قابلیت کا ثبوت دے کر ملک میں اپنی جگہ بنائیں۔ تعلیم، تجارت، انڈسٹری، تمام سماجی اداروں اور پروفیشنل شعبوں میں امتیازی لیاقت پیدا کر کے آگے بڑھیں۔ ۴۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اقلیتی گروہ کے لئے جس غلبہ کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس کی لازمی شرط، آیت کے مطابق ، صبر ہے۔ قرآن کا یہ بیان حتمی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ فطرت کے مذکورہ قانون کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لئے لازمی شرط یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر و تحمل کا مادہ ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال میں فوری ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کیا جائے۔ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کرنے کے لئے ہمیشہ وقت درکار ہوتا ہے۔ تاکہ آدمی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page