مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملہ کو سمجھے۔ وہ تحقیق اور مشورہ کے مراحل سے گزر کر کوئی گہری رائے قائم کرے۔ اس طرح صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اقدام سے بچے اور منصوبہ بند عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ مسلمانوں کو مثبت رول ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر صابرانہ مزاج پیدا کریں۔ وہ ان کو جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی تعلیم دیں۔ ۵۔ کوئی بھی کام کرنے کے لئے اس کے مطابق بنیاد (base) درکار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اس ملک میں جو رول ادا کرنا ہے اس کے لئے بھی یہی ضروری تیاری درکار ہے۔ اور وہ بنیاد تعلیم اور کردار ہے۔ جو لوگ یہ درد رکھتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں اپنا مطلوب تعمیری کردار ادا کریں انھیں مہم کے انداز میں یہ کوشش شروع کر دینا چاہیئے کہ مسلمان صد فی صد تعلیم یافتہ بن جائیں۔ اس تعلیمی نشانہ کو پورا کئے بغیر آگے کا کام نہیں ہو سکتا۔ اسی کے ساتھ انھیں دوسری مہم یہ جاری کرنا ہے کہ مسلمان اعلیٰ کردار کے حامل بنیں۔ مسجد اور مدرسہ سے لے کر اخبارات در سائل تک ہر ذریعہ کو اس مقصد کے لئے پوری طرح استعمال کیا جانا چاہیئے۔ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ اور اخلاق و کردار کے ذریعہ آدمی اس کا اہل بنتا ہے کہ وہ قابل اعتماد طور پر دنیا کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے۔ ۶۔ آزادی کے بعد ملک میں جو سماج بنا وہ نفرت اور تشدد کا سماج تھا۔ اس منفی فضا میں ملکی تعمیر کا کام نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لئے مہاتما گاندھی نے آزادی (۱۹۴۷) کے وقت کہا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ورنہ میں اسی کو شش میں اپنی جان دے دوں گا: Hindus and Muslims should learn to live together in peace and amity otherwise I will die in the attempt. بد قسمتی سے ابھی تک نفرت اور کشیدگی کی یہ فضا ختم نہ ہو سکی۔ یہ فضا ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے اور پورے ملک کے لئے سخت مہلک ہے۔ اس کی موجودگی میں ملک کے اندر کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader