Urdu book · تعمیر انسانیت

مستقبل کی قیادت

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیری منصوبہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر ممکن کوشش کر کے اس کو ختم کیا جائے۔ ملک میں قومی یک جہتی اور برادرانہ محبت پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد ہی یہاں کوئی حقیقی ترقیاتی کام کیا جاسکتا ہے۔ ۷۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت جو تلخی پائی جاتی ہے اس کا بڑا سبب وہ غلط فہمیاں ہیں جو مذہب کی نسبت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے ضرورت ہے کہ وسیع پیمانہ پر اسلام کے صحیح تعارف کی مہم جاری کی جائے۔ مختلف زبانوں میں اسلام کے مختلف موضوعات پر مثبت انداز کی کتابیں لکھ کر انھیں بڑے پیمانہ پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایا جائے۔ ۸۔ کوئی قوم صحیح رول صرف اس وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ اس کو صحیح قیادت حاصل ہو جائے مگر صحیح قیادت کا تعلق خود قیادت سے زیادہ قبولیت قیادت کی صلاحیت سے ہے۔ قوم کے اندر یہ مزاج ہونا چاہئے کہ وہ تعمیری قیادت اور استحصالی قیادت کے فرق کو سمجھ سکے۔ وہ حقیقت پسندانہ کلام اور جذباتی کلام کو پہچانے۔ جس قوم میں یہ استعداد نہ ہو وہ ہمیشہ استحصالی قیادت کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسلم عوام میں یہ مزاج پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کسی گہرے منصوبہ کے لئے مسلمانوں کو متحرک نہیں کیا جاسکتا۔ ۹۔ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا رول اب تک منفی رائے دہندگی (negative voting)کارہا ہے۔ یعنی کسی بنا پر جس سے انھیں ناراضگی ہو جائے اس کے خلاف ووٹ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔ اس قسم کی منفی سیاست نہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے اور نہ ملک کے لئے۔ جمہوریت دراصل طاقت میں اشتراک (power sharing) کی سیاست کا نام ہے۔ ہندوستان میں مسلمان مرکزی پارلیمنٹ کی تقریباً ۱۰۰ سیٹوں پر فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر وہ اپنے ووٹ کو درست طور پر استعمال کریں تو ملک کے سیاسی نظام میں وہ فیصلہ کن تعمیری رول ادا کر سکتے ہیں۔ مگر ابھی تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ضرورت ہے کہ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page