محبت فاتح عالم
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
(نمونہ) قرار دیا گیا ہے۔ (الممتحنہ ۳۔۶) قرآن کا یہ اصول عملی اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ اس لئے کہ انسان کی زندگی بے حد وسیع اور متنوع ہے۔ فرد اور جماعت دونوں کے حالات ہمیشہ بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ہر پیغمبر اور ان کے متبعین کے یہاں ایسی مثالیں ملتی ہیں جو بعد کے لوگوں کے لئے نمونہ بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کے مستند حالات تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں تاکہ بعد کے زمانہ کے خدا پرست لوگ ان سے اپنے حالات میں رہنمائی لے سکیں۔ قرآن میں اگر پچھلے پیغمبروں کے یہ واقعات نہ بتائے جاتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ قدیم زمانہ کے انبیاء اور ان کے پیروؤں کے دینی تجربات ہمیشہ کے لئے غیر معلوم رہتے۔ اور ان سے فائدہ اٹھانا بعد کے اہل ایمان کے لئے ممکن نہ ہوتا۔ حضرت یوسفؑ کی مثال عملی حالات کا تعلق مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ ہر قسم کے حالات کسی پیغمبر پر نہیں گزرتے۔ اس لئے یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی پیغمبر کی زندگی میں ہر قسم کے حالات کے لئے نمونہ موجود ہو۔ اس سلسلہ میں یہاں ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں حکومت کا ایک نیا نظام رائج ہوا ہے جو پچھلے زمانوں میں موجود نہ تھا۔ اس نظام کو ڈیمو کریسی کہا جاتا ہے۔ ڈیمو کریسی کا نظام قدیم زمانہ کی بادشاہت سے بالکل مختلف ہے۔ قدیم بادشاہت میں صرف ایک شخص کو مطلق حاکم کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔ لیکن موجودہ ڈیمو کریسی پورے سماج کے مشترک اقتدار کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈیمو کریسی کے نظام کو ایک لفظ میں اشتراک اقتدار کا نظام (power-sharing system) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں دنیا کے بہت سے ملکوں میں ڈیمو کریسی کا نظام رائج ہے۔ ان ملکوں میں مسلمان بھی ایک اقلیتی گروہ کے طور پر رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان ملکوں کے مسلمان کیا کریں۔ اگر وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں اس نوعیت کا کوئی نمونہ تلاش کریں تو یہاں ان کو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader