Urdu book · تعمیر انسانیت

محبت فاتح عالم

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

کا کوئی عملی نمونہ نہیں ملے گا جس سے وہ اس معاملہ میں واضح سیاسی رہنمائی حاصل کر سکیں ۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں عملی طور پر دو حالتوں کے نمونے ملتے ہیں۔ ایک مکی دور کا نمونہ، جہاں آپ صرف داعی کی حیثیت میں کام کرتے رہے اور دوسرا مدنی دور کا نمونہ، جہاں آپ کو حاکم کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ سیاسی اقتدار میں اشتراک کے لئے کوئی واضح نمونہ نہ آپ کے مکی دور میں ہے اور نہ آپ کے مدنی دور میں۔ قرآن کے مذکورہ حکم (الانعام) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس معاملہ میں ہم کو ایک واضح رہنمائی مل جائے گی۔ یہ رہنمائی حضرت یوسف کی زندگی میں ہے۔ حضرت یوسف ثابت شدہ طور پر خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ مصر میں آپ کے ساتھ کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہاں کے ہم عصر غیر مسلم حکمران اپوفیس (Apophis) نے آپ کو ایک بڑے سرکاری عہدہ کی پیش کش کی۔ یہ عہدہ بظاہر وزارت زراعت کا عہدہ تھا۔ مگر یہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ اس زمانہ کی اقتصادیات کا انحصار زیادہ تر زراعت پر تھا۔ زندگی کے تمام معاملات براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت سے جڑے ہوئے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس زمانہ کے وزیر زراعت کی حیثیت عملی طور پر تقریباً وہی تھی جو موجودہ زمانہ میں وزیر اعظم کی ہوتی ہے۔ چنانچہ جب مذکورہ مصری بادشاہ نے حضرت یوسف کو اس عہدہ کی پیش کش کی تو بائبل کی روایت کے مطابق اس نے حضرت یوسف سے کہا "سو تو میرے گھر کا مختار ہو گا اور میری ساری رعایا تیرے حکموں پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا “ (پیدائش باب ۴۱) ڈھانچہ کے فرق کے ساتھ، یہ صورت عملی طور پر تقریباً وہی تھی جس کو ہم نے اشتراک اقتدار (power-sharing) کا نام دیا ہے۔ قرآن اور بائبل کے مطابق، حضرت یوسف نے بادشاہ کی پیش کش کو منظور کر لیا۔ بادشاہ کو قانونی صدر مملکت مانتے ہوئے وہ اس حکومت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page