محبت فاتح عالم
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
شامل ہوگئے ۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار میں شرکت کا اصول ایک ایسا اصول ہے جس کی اصولی تصدیق پیغمبر کے اسوہ سے ہوتی ہے ۔ اس نظیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانہ کی ڈیمو کریسی کے نظام میں شرکت اصولی طور پر بالکل جائز ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں اسلام کے خلاف نہیں۔ اگر مسلمان کسی ملک میں ڈیمو کریسی کے حالات پائیں تو انہیں اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں شرکت کرنی چاہئے۔ ایسے نظام میں ان کی شرکت پیغمبرانہ اسوہ کے مطابق ہوگی نہ کہ اس کے خلاف۔ سیاست کا معاملہ ایک اجتماعی اور سماجی معاملہ ہے۔ ایسے معاملہ میں بعض اوقات قابل عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ سماج کے مختلف عناصر کی مجموعی رعایت کی جائے۔ ڈیمو کریسی اسی قسم کا ایک عملی نظام ہے اور حضرت یوسف کا نمونہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اگر حالات کے اعتبار سے ایسے نظام میں شرکت کریں تو ان کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہوگا۔ حضرت مسیح کی مثال اسی طرح قرآن میں حضرت مسیح اور ان کے پیروؤں کا ذکر بار بار آیا ہے ۔ قرآن کے اس حصہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی زندگی میں ایک خصوصی اہم مثال ملتی ہے۔ اس مثال کا تعلق تحریک سے ہے۔ اسلامی تحریک یا خدا پرستانہ دعوت کو کس طرح چلایا جائے اور مخالف عناصر سے کس طرح مقابلہ کیا جائے، اس کا ایک خاص نمونہ حضرت مسیح اور ان کے پیروؤں کے یہاں ملتا ہے۔ قرآن کی سورۃ ۶۱ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــ اے ایمان لانے والو ، تم اللہ کے مددگار بنو ، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ کون اللہ کے راستہ میں میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader