محبت فاتح عالم
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مقابلہ میں تائید کی۔ پس وہ غالب ہو گئے۔ (الصف ۱۴) قرآن کی اس آیت میں فایدنا الذین آمنوا علی عدوہم کے الفاظ بہت زیادہ قابلِ غور ہیں۔ ان کے جو ترجمے کئے گئے ہیں، ان میں سے چند یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ پس قوت دادیم مومناں را بر دشمنان ایشاں۔ پس شوند غالب (شاہ ولی اللہ دہلوی) پھر زور دیا ہم نے ان کو جو یقین لائے تھے ان کے دشمنوں پر۔ پھر ہو رہے غالب (شاہ عبد القادر) پھر قوت دی ہم نے ان کو جو ایمان لائے تھے پھر ہو رہے غالب۔ (شیخ الہند) اس آیت میں قوت (strength) سے کیا مراد ہے۔ اور دشمنوں پر غلبہ پانے کا مطلب کیا ہے۔ یہ نہایت اہم سوال ہے۔ مسیحیت کو اپنے ابتدائی زمانہ میں فلسطین کے یہودیوں کی طرف سے سخت قسم کی دشمنی کا سابقہ پیش آیا۔ حتیٰ کہ وہ حضرت مسیح کے قتل کے درپے ہو گئے۔ تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت مسیح کے پیروؤں نے ان کے مقابلے میں جنگی ہتھیار استعمال کئے ہوں اور اس کے ذریعہ انہوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی ہو۔ ایسی حالت میں آخر وہ کون سی قوت تھی جو ان کے لئے اپنے دشمنوں کے اوپر فتح وغلبہ کا ذریعہ بنی۔ اس کا جواب قرآن میں یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیروانِ مسیح کے اندر خصوصی طور پر ایک اخلاقی اور روحانی صفت پیدا کر دی جو مادی ہتھیار کے بغیر جنگ جیتنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ قرآن میں حضرت مسیح اور ان کے ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ (الحدید ۲۷)۔ یعنی جن لوگوں نے مسیح کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحمت رکھ دی۔ اس آیت میں متبعین مسیح کے لئے جس رأفت و رحمت کا ذکر ہے وہ بعد از اتباع کا واقعہ ہے نہ کہ قبل از اتباع کا واقعہ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ پہلے ہی سے رأفت و رحمت کے جذبات لے کر پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح کے ذریعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader