Urdu book · تعمیر انسانیت

محبت فاتح عالم

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کو جو دین سکھایا گیا تھا اس نے ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ فلسطین میں جب ان کو یہودیوں کی دشمنانہ کارروائیوں کا سامنا پیش آیا تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کو ٹکرائو کے بجائے یہ تعلیم دی گئی کہ رأفت ورحمت سے اس کا مقابلہ کرو۔ یہی بات خود انجیل سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ (لوقا باب ۶) اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے پیروئوں کو جو طاقت دی گئی وہ رأفت و رحمت کی طاقت تھی۔ اسی پرامن ہتھیار کے ذریعہ وہ اپنے دشمنوں پر اس طرح غالب ہوئے کہ جو لوگ پہلے ان کے غیر یاد دشمن بنے ہوئے تھے۔ وہ دوست بن کر ان کی صف میں شامل ہوگئے۔ اس طرح ان کی عددی قوت اتنی بڑھ گئی کہ خود یہی عددی برتری ان کے غلبہ کا ذریعہ بن گئی۔ اس سلسلہ میں حضرت مسیح نے اپنے پیروئوں کو جو تعلیم دی تھی وہ موجودہ انجیل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ یہ اگر چہ اصل مسیحی تعلیم کا صرف ترجمہ ہے تاہم اس میں حضرت مسیح کی تعلیم کی روح اب بھی پائی جاتی ہے۔ اس کے بعض حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں: میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو۔ جو تم سے عداوت رکھیں ان کا بھلا کرو۔ جو تم پر لعنت کریں ان کے لئے برکت چاہو۔ جو تمہاری تحقیر کریں ان کے لئے دعا کرو۔ جو تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔ اور جو تمہارا بچہ لے اس کو کرتا لینے سے بھی منع نہ کرو۔ (لوقا باب ۶) یہودی فریسیوں نے یسوع سے پوچھا کہ کیا قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں۔ یسوع نے جواب دیا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو (متی باب ۲۲) جیسا کہ معلوم ہے، حضرت مسیح اور ان کے متبعین کو فلسطین میں اول دن سے سخت مخالفت اور دشمنی کا سامنا پیش آیا۔ ان کے یہ دشمن یہودی لوگ تھے جو اس وقت اس علاقہ میں طاقتور حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی اس دشمنانہ کارروائیوں میں وہاں کے رومی حکمرانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page