Urdu book · تعمیر انسانیت

محبت فاتح عالم

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا۔ اس کے نتیجہ میں حضرت مسیح اور ان کے ماننے والوں کے لئے وہاں انتہائی حد تک غیر موافق ماحول پیدا ہو گیا۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ حضرت مسیح کے متبعین نفرت اور تشدد اور ٹکراؤ کے راستہ پر چل پڑیں۔ وہ شہادت کی جذباتی تقریریں کر کے مسیحیوں کو لڑنے مرنے پر آمادہ کریں۔ مگر اس سخت ترین ماحول میں بھی حضرت مسیح نے ان کو محبت کا پیغام دیا۔ انھوں نے کہا کہ تم اپنے دشمنوں سے نفرت نہ کرو بلکہ ان سے محبت والا معاملہ کرو۔ "دشمن سے محبت کرو" کی بات کوئی سادہ بات نہ تھی بلکہ یہ ایک مکمل طرز فکر اور ایک مکمل پروگرام تھا۔ اس کا مطلب ،ایک لفظ میں یہ تھا کہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو نفرت پر مبنی (love-based activism) سے روکا اور انہیں محبت پر مبنی عمل (hate-based activism) کے راستہ پر ڈال دیا۔ "دشمن سے محبت کرو" کا مطلب ہے کہ تم دشمن کے خیر خواہ بنو۔ دعوت کی بنیاد یہی خیر خواہی ہے۔ دعوت دراصل محبت انسانی کا اظہار ہے۔ حضرت مسیح نے جب دشمن سے محبت کرنے پر زور دیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ تمام انسانوں سے دعوتی خیر خواہی کرو، حتی کہ اپنے دشمنوں سے بھی۔ تم ہر آدمی کی ہدایت کے حریص بنو، خواہ وہ تمہارا موافق ہو یا مخالف ، خواہ وہ تم سے دور ہو یا تم سے قریب ۔ تم ہر ایک کو خدا کی رحمت میں داخل کرنے کے لئے سرگرم ہو جاؤ۔ حضرت مسیح کا یہ کہنا کہ "جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو دو" کوئی انفعالی تعلیم نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وقت کے حکمرانوں سے پولینٹکل ٹکراؤ کرنے سے بچو تا کہ ایسا نہ ہو کہ تمہارا سارا وقت منفی ٹکراؤ میں گزر جائے ۔ اور غیر سیاسی میدان میں مثبت جدوجہد کے جو امکانات ہیں وہ غیر استعمال شدہ رہ جائیں۔ اسی طرح حضرت مسیح کا یہ کہنا کہ "جو تمہارا کرتا مانگے اس کو اپنا چغہ بھی دے دو" یہ بھی کوئی بزدلی اور سپردگی کی تعلیم نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی سے کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page