Urdu book · تعمیر انسانیت

محبت فاتح عالم

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

نزاع پیدا ہو تو جلد از جلد اس کو ختم کر دو، خواہ وہ یکطرفہ ایڈجسٹمنٹ (unilateral adjustment) کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس پالیسی کو چند لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسائل سے اعراض کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities. اس پالیسی کے تحت حضرت مسیح نے اپنے ساتھیوں کو دو عوتی ہجرت کا مشورہ دیا۔ یعنی وہ لوگ فلسطین سے نکل کر اطراف کے علاقوں میں چلے جائیں اور وہاں پر امن طور پر رہ کر لوگوں کی خدمت کریں اور انہیں مسیحیت کا پیغام پہنچائیں۔ اس واقعہ کا ذکر انجیل میں اس طرح آیا ہے: اور مسیح کے گیارہ شاگرد گلیل کے اس پہاڑ پر گئے جو یسوع نے ان کے لئے مقرر کیا تھا... یسوع نے پاس آکر ان سے باتیں کیں... اور کہا کہ تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ... اور ان کو تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تم کو حکم دیا (متی باب ۲۸) یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، معاہدہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ ارادہ کیا کہ عرب کے اطراف میں بادشاہوں اور سرداروں کو دعوتی خطوط روانہ کریں۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو مدینہ میں جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو، اللہ نے مجھ کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ تو تم لوگ میرے ساتھ اختلاف نہ کرو۔ جس طرح حواریوں نے عیسی بن مریم کے ساتھ اختلاف کیا۔ یہ سن کر اصحاب رسول نے کہا کہ اے خدا کے رسول، حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ نے حواریوں کو اسی کام کی طرف بلایا تھا جس کام کی طرف میں تم کو بلا رہا ہوں۔ تو جس کو انہوں نے قریب کے مقام پر بھیجنا چاہادہ اس پر راضی رہے اور جس کو دور کے مقام پر بھیجنا چاہا تو اس کو یہ بات شاق ہوئی اور ناگوار گزری۔ تو عیسیٰ نے اللہ سے اس کی شکایت کی تو جن کو گرانی ہوئی تھی ان کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے ہر ایک ان لوگوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page