Urdu book · تعمیر انسانیت

محبت فاتح عالم

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان بولنے لگا جن کو بھیجا جا رہا تھا۔ (سیرت ابن ہشام ۲/ ۲۷۹) حضرت مسیح کی ہدایت پر آپ کے متبعین کا اس طرح فلسطین سے نکلنا ایک قسم کی دعیانہ ہجرت تھی۔ چنانچہ یہ لوگ اپنے وطن سے نکل کر اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے اور خاموشی کے ساتھ لوگوں کو مسیحیت کا پیغام دینے لگے۔ حضرت مسیح کی ہدایت کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ سیاسی اقتدار سے کسی قسم کا کوئی تعرض نہ کریں۔ اگر کسی سے نزاع پیدا ہو جائے تو اس کو فورا ہی یک طرفہ طور پر حل کر لیں۔ وہ لوگوں کے ساتھ محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ دوسروں کے ساتھ ان کا یہ سلوک گویا دعوت کی فضا بنانے کے ہم معنی تھا۔ اس موافق فضا میں وہ لوگوں کو مسیحیت کا پیغام دینے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیحیت تیزی سے لوگوں کے درمیان پھیلنے لگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تھوڑی ہی مدت میں مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیل گئی۔ مثلاً روم، یونان، شام، مصر، سوڈان، حبش، شمالی افریقہ، جارجیا، آرمینیا، مالا بار کوسٹ وغیرہ۔ حضرت مسیح کے بعد ابتدائی پانچ صدیوں میں مسیحیت جس طرح دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی اس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے: Harnack : Mission and Expansion of Christianity in the First Three Centuries (1902) Kenneth Scott Latourette : History of the Expansion of Christianity (1945) دو ہزار سال پہلے حضرت مسیح کی وفات کے بعد مسیحیت برابر پھیلتی رہی۔ حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، مسیح کے پیروؤں کے سامنے صرف دو نکاتی پروگرام تھا ــ محبت اور دعوت۔ یک طرفہ محبت اور پر امن دعوت کے اسی اصول کو لے کر وہ پھیلتے رہے یہاں تک کہ وہ یورپ تک پہنچ گئے۔ اس وقت یورپ کے بیشتر حصہ میں رومن امپائر کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ ابتدا ان کو رومن امپائر کی طرف سے سخت اذیت (persecution) کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر وہ انتقام یا ٹکراؤ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page