انسان کی تلاش
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی تلاش انسانی تاریخ ایک مسلسل تلاش کا نام ہے۔ انسان کی تاریخ جتنی قدیم ہے اتنی ہی قدیم اس کی تلاش بھی ہے۔ مگر بے شمار علمی اور تمدنی ترقیوں کے باوجود ابھی تک انسان اپنی تلاش کا جواب نہ پاسکا۔ انسانیت کا قافلہ بدستور تلاش کے صحرا میں حیران و سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت کی یہ تلاش سب سے پہلے فلسفیوں نے باقاعدہ صورت میں شروع کی۔ ہزاروں بڑے بڑے دماغوں نے اپنی پوری زندگی اسی تلاش میں ختم کر دی۔ مگر وہ کسی قابلِ اعتماد جواب تک نہ پہنچ سکے۔ انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات ۱۹۷۰) نے بیسویں صدی کا اعلیٰ ترقی یافتہ زمانہ پایا۔ وہ تقریباً سو سال تک زندہ رہا۔ اس نے اپنی ساری عمر علوم کے مطالعہ میں گزار دی۔ اس کے باوجود وہ اس حال میں مراکہ وہ دنیا کو کوئی فلسفہ حیات نہ دے سکا۔ چنانچہ برٹرینڈ رسل کو بے فلسفہ فلسفی (Philosopher of no Philosophy) کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ صرف برٹرینڈ رسل کی بات نہیں بلکہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے تمام فلسفیوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی فلسفی انسان کو اس کی تلاش کا کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر پچھلے پانچ ہزار سال میں فلسفہ اپنی تلاش کا جواب پانے میں ناکام رہا ہے تو اگلے پانچ ہزار سال میں وہ اس کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ تلاش کی مدت کا نہیں ہے بلکہ تلاش کے معاملہ میں فلسفہ کی نااہلی کا ہے۔ حقائق کی دنیا اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان اپنے محدود ذہن کے تحت اس کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔ ایک مغربی مفکر نے بجاطور پر کہا ہے کہ علم میں ہر اضافہ صرف اپنی بے علمی میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں: We are knowing more and more about less and less فلسفہ کے بعد اس معاملہ میں دوسرا نام سائنس کا آتا ہے۔ مگر سائنس نے آغاز ہی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader