انسان کی تلاش
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے میں اپنے عجز کا اعتراف کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی معروف ترقیاں تمام تر اسی اعتراف عجز کا نتیجہ ہیں۔ فلسفہ یہ کوشش کر رہا تھا کہ وہ چیزوں کا علم (knowledge of things) اور سچائیوں کا علم (knowledge of truths) دونوں کو بیک وقت دریافت کرے۔ مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا کہ سچائی کے علم تک پہونچنا انسان کے لئے اپنی ناکافی استعداد کی بنا پر ممکن ہی نہیں۔ اسی بات کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ" انسان کو صرف علم قلیل دیا گیا ہے"۔ (بنی اسرائیل ۵۸) چنانچہ عملی نقطۂ نظر کو اختیار کرتے ہوئے سائنس نے اپنی کوششوں کو صرف چیزوں کے علم تک محدود کر دیا۔ اس تقسیم کی بنا پر سائنس کو جزئی کامیابی تو ملی۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حقیقت کی تلاش کے معاملہ میں سائنس کوئی مفید علمی ذریعہ نہیں ہے اور نہ وہ کبھی اس کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ فلسفہ اور سائنس کے بعد دوسرا جو ذریعہ باقی رہتا ہے وہ مذہب ہے۔ فلسفہ اور سائنس کے برعکس، مذہب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے پاس حقیقت کا علم ہے اور لوگوں کو اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ دنیا میں تقریباً ایک درجن بڑے مذاہب ہیں اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہے۔ مگر مسلمہ اصول کے مطابق، کسی مذہب یا فکری نظام کو صرف دعوئی کی بنیاد پر نہیں مانا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ مسلمہ علمی اصول پر ان کے دعویٰ کو جانچا جائے اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے۔ اب غور کیجئے کہ اس جانچ کا علمی اصول کیا ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذاہب کی واقعیت کو جانچنے کے لئے تین بنیادی اصول یہ ہو سکتے ہیں۔ ا۔ زیر بحث مذہب کے حق میں تاریخی قرائن کیا ہیں۔ کیا تاریخ کے مسلمہ معیار پر اس کے وجود کی اعتبار یت ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ صرف غیر ثابت شدہ مفروضات پر مبنی ہے یا وہ اپنے ساتھ کوئی حقیقی تاریخ رکھتا ہے۔ ۲۔ مذہب کے دائرہ سے باہر علوم کا جو ارتقاء ہوا ہے وہ اس کی تعلیمات کی تصدیق کرتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader