اتحاد انسانیت
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ یہ ہے کہ اس کو ایک ایسی سچائی ملی ہوئی ہو جس کے برحق ہونے پر وہ کامل یقین کر سکے ، جو اس کے لئے اعتماد و توکل کا آخری سہارا ہو۔ جو اس کو اس احساس سے سرشار رکھے کہ اس نے اس حقیقت کو پالیا ہے جس کی طلب وہ اپنی فطرت کی گہرائیوں میں محسوس کر رہا تھا۔ لیکن جب یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان مذہب پر یقین سے محروم ہو جائے گا۔ یقین فطری طور پر وحدت چاہتا ہے نہ کہ تعدد۔ ایسی حالت میں ہر مذہب کو سچا ماننے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی بھی مذہب آدمی کے لئے یقین اور اعتماد کا سر چشمہ نہ بن سکے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه (الاحزاب ۔ ٤) اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدائشی ساخت کے مطابق کوئی ایک ہی چیز کسی کے لئے کامل معنوں میں مرکز توجہ یا مرکز محبت بن سکتی ہے نہ کہ کئی چیزیں۔ کوئی شخص اگر آپ سے یہ مطالبہ کرے کہ آپ دنیا کی ہر خاتون سے اپنی ماں کی طرح محبت کریں تو یہ ایک غیر فطری اور ناممکن بات ہوگی۔ فطرت کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی ماں سے محبت رکھے اور اس کے علاوہ جو عورتیں ہیں ان کا وہ مکمل احترام کرے۔ ایسی حالت میں صحیح اور فطری بات صرف یہ ہے کہ آدمی جس مذہب میں سچائی دیکھے اس کو وہ اپنے یقین اور اعتماد کا مرکز بنائے۔ اور بقیہ مذاہب سے یکساں طور پر احترام کا معاملہ کرے ۔ مہاتما گاندھی اس نظریئے کے ایک بڑے حامی تھے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ چنانچہ وہ کہا کرتے تھے کہ رام رحیم ایک ہے۔ مگر واقعات ثابت کرتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو صرف ایک کے اوپر گہرا یقین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۳۸ میں جب ان کو گولی ماری گئی تو موت سے پہلے جو لفظ ان کی زبان سے نکلا وہ ” ہے رام ہے رحیم “ نہیں تھا بلکہ صرف ” ہے رام “ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ” تمام مذاہب سچے ہیں “ کا نظریہ آدمی کو سچائی تو نہیں دے گا ، البتہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader