اتحاد انسانیت
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو دو میں سے ایک خرابی میں مبتلا کر دے گا۔ اس کو یا تو کسی بھی مذہب پر گہرا یقین نہ ہو گا، یا وہ ایسا کرے گا کہ حقیقی طور پر تو وہ صرف ایک مذہب کو مان رہا ہوگا، البتہ مصلحت کی خاطر وہ اپنی زبان سے لفظی طور پر یہ کہے گا کہ تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں۔ ۴۔ اس معاملہ میں صحیح نظریہ یہ ہے کہ مذاہب میں اختلاف کو مان کر بحث اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ البتہ انسان کی سطح پر ہر ایک کو قابل احترام سمجھا جائے۔ پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ اس اصول کی تائید کرتا ہے۔ ﷺ پیغمبر اسلام ﷺ جب مدینہ میں تھے، ایک روز آپ نے دیکھا کہ قریب کے راستہ سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ لوگ ایک میت اٹھائے ہوئے اس کو قبرستان کی طرف لے جا رہے تھے ۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ایک ساتھی نے کہا کہ اے خدا کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا (نہ کہ کسی مسلمان کا جنازہ) ۔ آپ نے فرمایا ”کیا وہ انسان نہ تھا “ ( الیست نفساً ) فتح الباری بشرح صحيح البخاری، ۲۱۳/۳۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق یہ معلوم ہے کہ آپ یہودی مذہب سے اختلاف رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے یہودی کو ایک انسان کی حیثیت سے دیکھا اور انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا۔ یہی اس معاملہ میں صحیح فارمولہ ہے۔ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں مذہب کے درمیان مباحثہ اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جو فکری ارتقاء کی لازمی شرط ہے۔ اور دوسری طرف انسان کی سطح پر تمام افراد کو انسان کے روپ میں دیکھنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ سماجی اتحاد اور معاشرتی ہم آہنگی پوری طرح باقی رہتی ہے جو بہتر سماجی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ ۵۔ یہ عقیدہ کہ تمام مذاہب یکساں ہیں، باہمی ٹکراؤ کے خلاف کوئی لازمی چیک نہیں۔ دنیا کی بے شمار لڑائیاں ایک ہی عقیدہ اور مذہب کے ماننے والوں کے درمیان ہوئیں۔ مثلاً قدیم ہندوستان میں مہا بھارت کی لڑائی، جو دو ہم مذہب گروہوں کے درمیان ہوئی ۔ یورپ کی پہلی اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader